- Advertisement -

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے

ضیا مذکور کی ایک اردو غزل

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے
ورنہ میں آتا مشورے کے لیے

تم کو اچھے لگے تو تم رکھ لو
پھول توڑے تھے بیچنے کے لیے

گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے
آپ کے ساتھ بولنے کے لیے

سینکڑوں کُنڈیاں لگا رہا ہوں
چند بٹنوں کو کھولنے کے لیے

ایک دیوار باغ سے پہلے
اک دوپٹہ کھلے گلے کے لیے

ترک اپنی فلاح کر دی ہے
اور کیا ہو معاشرے کی لیے

اب میں رستے میں لیٹ جاؤں کیا
جانے والوں کو روکنے کے لیے

لوگ آیات پڑھ کے سوتے ہیں
آپ کے خواب دیکھنے کے لیے

ضیا مذکور

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ضیا مذکور کی ایک اردو غزل