اردو غزلیاتبہزاد لکھنویشعر و شاعری

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے

بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل

یوں تو جو چاہے یہاں صاحب محفل ہو جائے
بزم اس شخص کی ہے تو جسے حاصل ہو جائے

ناخدا اے مری کشتی کے چلانے والے
لطف تو جب ہے کہ ہر موج ہی ساحل ہو جائے

اس لیے چل کے ہر اک گام پہ رک جاتا ہوں
تا نہ بے کیف غم دورئ منزل ہو جائے

تجھ کو اپنی ہی قسم یہ تو بتا دے مجھ کو
کیا یہ ممکن ہے کبھی تو مجھے حاصل ہو جائے

ہائے اس وقت دل زار کا عالم کیا ہو
گر محبت ہی محبت کے مقابل ہو جائے

پھیکا پھیکا ہے مری بزم محبت کا چراغ
تم جو آ جاؤ تو کچھ رونق محفل ہو جائے

تیری نظریں جو ذرا مجھ پہ کرم فرمائیں
تیری نظروں کی قسم پھر یہی دل دل ہو جائے

ہوش اس کے ہیں یہ جام اس کا ہے تو ہے اس کا
مے کدے میں ترے جو شخص بھی غافل ہو جائے

فتنہ گر شوق سے بہزادؔ کو کر دے پامال
اس سے تسکین دلی گر تجھے حاصل ہو جائے

بہزاد لکھنوی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button