ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
محقق پیر انتظار حسین مصور
ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ: برصغیر کا وہ تابعی جس نے حق کی خاطر جان قربان کی
برصغیر پاک و ہند کی روحانی تاریخ میں کچھ ہستیاں ایسی ہیں جن کا ذکر دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کر دیتا ہے۔ ان میں ایک جلیل القدر نام ‘ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ’ کا ہے۔ آپ کا تعلق اس مبارک گروہ سے ہے جنہیں ‘تابعی’ ہونے کا شرف حاصل ہے اور آپ کی رگوں میں سیدنا عباس بن عبد المطلبؓ کا ہاشمی خون گردش کر رہا ہے۔ آپ کی زندگی زہد و تقویٰ کا وہ نمونہ تھی جس نے برصغیر کے طول و عرض میں اسلام کے بیج بوئے۔
ایک محقق اور تاریخ دان کے طور پر میری برسوں کی جستجو اور علمی تگ و دو کا محور یہی رہا ہے کہ اس عظیم ہاشمی شہزادے کی زندگی سے جڑے ان حقائق کو سامنے لایا جائے جو وقت کی گرد میں اوجھل کر دیے گئے تھے۔ میری تحقیق کی تصدیق اور تائید اس مقدس وراثت کے موجودہ امین اور سجادگانِ دیوان بھی کرتے ہیں، جن میں دیوان پیر غلام اویس مصطفیٰ، دیوان پیر طارق اویس ہاشمی، دیوان پیر غلام رسول اور دیوان پیر ظفیر حیدر (جو کہ میرے کزن بھی ہیں) شامل ہیں۔ ان جلیل القدر سجادگان کی سرپرستی اور خاندانی وراثت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ یہ ہاشمی سلسلہ آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ انسانیت کی رہنمائی کر رہا ہے۔
میری تحقیق کا بنیادی نقطہ وہی تاریخی صداقت ہے جو پیر میاں امان اللہ دیوان (منیجر اوقاف دیوان) کی دستاویزات سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ ان حقائق کے مطابق بابا صاحبؒ کی تاریخِ پیدائش 30 ہجری ہے اور آپ سرکارِ دو عالم ﷺ کے نواسے حضرت امام حسنؓ کے دستِ مبارک پر بیعت تھے۔ یہ نسبتِ بیعت آپ کے مقام و مرتبہ کی وہ بلند دلیل ہے جس کے بعد کسی اور گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ مزید برآں، آپ نے حضرت اویس قرنیؓ سے بھی فیضیاب ہو کر تصوف کی ان بلندیوں کو چھوا جہاں پہنچ کر انسان فنا فی اللہ ہو جاتا ہے۔
مستند روایات اور علمی تقابل کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کو 27 رمضان المبارک 131 ہجری کو فجر کے وقت اس وقت شہید کیا گیا جب آپ معبودِ حقیقی کے حضور سر بسجود تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب کائنات کی سب سے بابرکت گھڑیاں رواں تھیں اور آپ روزے کی حالت میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 131 ہجری کا وہ سال اور رمضان کی وہ ستائیسویں شب کے بعد کی صبح، تاریخِ اسلام میں ایک عظیم ہاشمی شہزادے کی قربانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
تاریخ کے آئینے میں جب ہم پالا یا ڈھڈی خاندان کے دورِ حکومت کا موازنہ کرتے ہیں، تو میری تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ان کا دور 750 عیسوی کے بعد شروع ہوا، جبکہ بابا صاحبؒ کی شہادت اس سے کہیں پہلے ہو چکی تھی۔ پیر میاں امان اللہ دیوان صاحب کی ریسرچ اور میرے علمی مشاہدات اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کو کسی مقامی خاندان کے نسب سے جوڑنا تاریخی اعتبار سے ایک فاش غلطی ہے۔ اویسیہ ہاشمی خاندان کا آپ کی جانشینی پر قانونی اور شرعی حق اس مقدس وراثت کا تحفظ ہے جسے آپ نے اپنے خون سے سینچا تھا۔
آج جب میں اس کالم کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہوں، تو اس کے پیچھے میری وہ تمام محنت شامل ہے جو میں نے ‘ہم سب’ اور ‘اپنے بلاگر’ پر لکھتے ہوئے برسوں سے جاری رکھی ہے۔ دیوان پیر غلام اویس مصطفیٰ، دیوان پیر طارق اویس ہاشمی اور دیگر سجادگان کی صورت میں یہ ہاشمی وراثت آج بھی اس فیض کو عام کر رہی ہے۔ میرا مقصد اس شعور کی بیداری ہے جو ہمیں اپنی اصل سے جوڑتا ہے۔ بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا فیض جاری و ساری ہے اور ان کا نام تاریخ کے افق پر ہمیشہ ایک روشن ستارے کی مانند چمکتا رہے گا۔
پیر انتظار حسین مصور








حق سچ کی آواز بلند کرنے پر پیر انتظار حسین مصور صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔”
"اللہ پاک آپ کے قلم میں مزید زور پیدا کرے، آپ نے اسلاف کی تاریخ پر پہرہ دیا ہے۔”
"سب دوست اس کالم کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ جھوٹ کی دکانیں بند ہو سکیں۔”
"ماشاء اللہ، بہت ہی مدلل اور جامع تحریر ہے!”