آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری
تم کیسے جان سکتے ہو ہار کا دکھ
ایک اردو غزل از نگار فاطمہ انصاری
تم کیسے جان سکتے ہو ہار کا دکھ
شکاری بھلا کب سمجھتے ہیں شکار کا دکھ
اک شخص کوڈگریاں جلاتے ہوئے دیکھ سمجھ آیا
کیا ہوتا ہے ایک پڑھے لکھے بےروزگار کا دکھ
تیرے احباب عشق کے قصّے سناتے ہیں
تیرے شہر میں آؤ تو بڑھتا ہے انتظار کا دکھ
رگ جاں میں پیوست ہیں اک دشمن جاں
ایک تو ہجر کی عید اور پھر سنگھار کا دکھ
سب کچھ تھا میں بس ماہر گفتار نہ تھا
مجھے کھا گیا اس کی ایک پکار کا دکھ
نگار فاطمہ انصاری








