آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

امید سب سے بڑی مزاحمت ہے

ایک تحریر از ایم اے دوشی

MA Doshi Column logo

وہی تاج ہے، وہی تخت ہے، وہی زہر ہے، وہی جام ہے
یہ وہی خدا کی زمین ہے، یہ وہی بتوں کا نظام ہے
بڑے شوق سے مرا گھر جلا، کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی
یہ زباں کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے

بشیر بدر صاحب کے ان اشعار سے اب سچ میں یہی لگنے لگا ہے کہ ہماری زبان کسی نے خرید لی ہے اور یہ قلم کسی کا غلام بن چکا ہے۔

سچائی جب بہت کڑوی ہو جائے تو انسان قصے کہانیوں کا سہارا لیتا ہے۔ داستانیں صرف بچوں کو سلانے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ یہ کبھی کبھی سوئے ہوئے شعور کو جگانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ ایک ایسے ہی جنگل کی کہانی ہے جسے دنیا "شیرستان” کے نام سے جانتی تھی۔ کہنے کو تو یہ ایک ہرا بھرا، لہلہاتا ہوا جنگل تھا جہاں زندگی اپنی پوری رعنائی کے ساتھ رواں دواں تھی، لیکن اس ہریالی کے پیچھے سائے بہت گہرے تھے۔

شیرستان کا ایک باقاعدہ نظام تھا۔ وہاں جانوروں کی ایک کونسل تھی جہاں انتخابات ہوتے تھے، نمائندے چنے جاتے تھے اور انصاف کی عدالتیں بھی سجتی تھیں۔ بظاہر دنیا کو یہی دکھایا جاتا تھا کہ یہاں کا نظامِ حکومت عوام کی مرضی سے چلتا ہے۔ لیکن اس پورے نظام کی ایک ایسی سچائی تھی جس سے جنگل کا بچہ بچہ واقف تھا، مگر زبان پر لانے کی اجازت کسی کو نہیں تھی۔ اصل طاقت کونسل کے پاس نہیں، بلکہ جنگل کی اس اندھیری غار میں تھی جہاں شیر رہتے تھے۔ کونسل کا ہر فیصلہ، ہر قانون اور ہر حکم نامہ پہلے اس غار کی منظوری کا محتاج ہوتا تھا۔ اگر شیروں کی غار سے ہری جھنڈی نہ ملتی، تو کونسل کا بڑے سے بڑا فیصلہ بھی کاغذ کا ایک بے جان ٹکڑا بن کر رہ جاتا۔

اس شیرستان کے شمال میں ایک بے حد خوبصورت وادی تھی جسے سب "وادی چنار” کہتے تھے۔ یہ وادی جتنی دلکش تھی، اتنی ہی دکھی بھی تھی۔ چنار کے سرخ پتے گویا اس وادی کے باشندوں کے خون اور آنسوؤں کی عکاسی کرتے تھے۔ اس وادی کے پنچھی، ہرن اور دیگر معصوم جانور برسوں سے ایک ہی خواب دیکھ رہے تھے کہ ایک دن وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے جنگل کے فیصلے ان کی اپنی مرضی سے ہوں، کسی غار کے حکم پر نہ ہوں۔

لیکن المیہ یہ تھا کہ چنار وادی کو ہر طاقتور فریق نے اپنی جاگیر سمجھ رکھا تھا۔ کوئی اسے اپنی بقا کا مسئلہ کہتا تو کوئی اسے اپنی انا کا محور بنا لیتا۔ اس کھینچ تان میں وادی کے اصل باشندوں کی آواز کہیں بہت پیچھے دب کر رہ گئی تھی، ان کے زخم وقت کے ساتھ گہرے ہوتے گئے، لیکن ان زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ آزادی کی ہوا میں سانس تو لینا چاہتے تھے، مگر شیرستان کے طاقتور شکاریوں نے ان کی فضاؤں پر اپنے خوف کے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور شیرستان میں ایک ایسا عجیب و غریب نظام جڑ پکڑ گیا جس کی مثال دنیا کے کسی اور جنگل میں نہیں ملتی تھی۔

کہنے کو تو اس جنگل میں ہر چند سال بعد انتخابات کا میلہ سجتا تھا، اور یہ میلہ بھی طاقتور کی مرضی کے بغیر نہیں سج پاتا۔ اس انتخابی میلے میں جانور لائنوں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالتے تھے، لیکن سب جانتے تھے کہ ووٹوں کی گنتی سے پہلے ہی یہ طے ہو چکا ہوتا ہے کہ کس کا سر تاج کے لیے موزوں ہے اور کس کو پنجرے میں بند کرنا ہے۔ اختیار کی کرسی پر جو بھی بیٹھتا، اس کی لگامیں غار والے اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگل میں روز صبح اخبارات چھپتے تھے، پرندے خبریں سناتے تھے، لیکن ہواؤں میں ایک عجیب سا ڈر تھا۔ وہ سچائیاں جو سب کو معلوم تھیں، اخباروں کے صفحات پر جگہ نہیں پا سکتی تھیں۔ قلم چلانے والوں کو معلوم تھا کہ کون سی لکیر پار کرنے سے ان کے پر کاٹ دیے جائیں گے۔

جنگل میں ایک انصاف کدہ بھی قائم تھا جہاں انصاف کے منصف موجود ہوا کرتے تھے، جن کے پاس مظلوم جانور فریاد لے کر جاتے تھے۔ لیکن ان عدالتوں کے کچھ ایسے چور دروازے بھی تھے جن پر دستک دینے کی جرات کوئی بڑا سے بڑا منصف بھی نہیں کر سکتا تھا۔ طاقتور کے خلاف فائلیں کھلتی ضرور تھیں، مگر انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی شیروں کے خوف سے مزید کالی ہو جاتی تھی۔

عوام الناس کو روز یہ یقین دلایا جاتا کہ آپ ایک آزاد اور جمہوری جنگل کے باسی ہیں، آپ کی رائے ہمارے لیے مقدم ہے، لیکن رات کی تاریکی میں جب غار سے کوئی دھاڑ سنائی دیتی تو سب کی سٹی گم ہو جاتی۔ ہر بڑا اور اہم فیصلہ اسی غار سے لکھ کر آتا تھا اور کونسل کے وزرا اسے اپنی کامیابی بتا کر عوام کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔

جنگل کے ایک پرانے اور گھنے درخت پر ایک بوڑھا الو رہا کرتا تھا۔ وہ دن بھر خاموش رہتا اور رات بھر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے جنگل کے بدلتے رنگوں کو دیکھتا تھا۔ اس نے شیرستان کے کئی موسم دیکھے تھے، کئی عروج اور کئی زوال دیکھے تھے۔

ایک شام، جب جنگل میں انتخابات کے نتائج کا جشن منایا جا رہا تھا اور نئی کونسل کے قیام پر تالیاں بج رہی تھیں، تو کچھ نوجوان جانوروں نے الو سے پوچھا کہ دادا! کیا اب ہمارے جنگل کے دن بدل جائیں گے؟ کیا اب ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں؟

بوڑھے الو نے ایک سرد آہ بھری، اپنی گردن کو آہستہ سے گھمایا اور ایک ایسا جملہ کہا جو شیرستان کی پوری تاریخ کا نچوڑ بن گیا۔ اس نے کہا کہ یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو، یہ تمہاری آنکھوں کا دھوکہ ہے۔ یہاں بھی وہی ہو گا جو ازل سے ہوتا آیا ہے۔ یہاں بھی تخت کسی اور کا ہو گا اور تاج کسی اور کے سر پر سجا دیا جائے گا۔ یہاں بھی وہ دھندلا سایہ ہو گا (سول مارشل لا) جہاں نہ جمہوریت مکمل نظر آئے گی، نہ ہی مارشل لا کا الزام لگایا جائے گا۔

الو کی اس بات نے شیرستان کے پورے نظام کا پردہ چاک کر دیا تھا۔ ادھر ایک ایسا سحر تھا جس میں بادشاہ تو سامنے نظر آتا تھا، لیکن اس کے پیچھے جادوگر کوئی اور تھا۔ تاج پہننے والا سمجھتا تھا کہ وہ حاکم ہے، لیکن اس کی ہر جنبشِ ابرو غار کے اشاروں کی پابند ہوتی تھی۔ جس جنگل میں ایسا نظام نافذ ہو وہاں کے جانوروں کو یہ جاننے میں مدت لگ جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی بات کس سے کریں، حقوق کی جنگ ایوان میں لڑائیں یا عملی میدان میں۔ زیادہ دیر اسی الجھن کا شکار رہنے والے جانور ہمیشہ پوشیدہ طاقت کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہی کالے غار والے ان کو غداری کی اسناد جاری کر دیتے ہیں۔

شیرستان کا یہ المیہ آج بھی جاری ہے۔ وادی چنار کے زخم آج بھی تازہ ہیں، اخباروں کے صفحات پر سچ کی تلاش آج بھی ادھوری ہے اور عدالتوں کے وہ مخصوص دروازے آج بھی بند ہیں۔ مگر تاریخ کا ایک اصول ہے کہ سائے چاہے کتنے ہی گہرے اور طویل کیوں نہ ہو جائیں، وہ سورج کی سچی روشنی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ کٹھ پتلیوں کا تماشا اس وقت تک ہی چلتا ہے جب تک دیکھنے والے خاموش رہیں۔ جس دن شیرستان کے عام جانوروں نے اس سائے کو پہچان لیا اور کٹھ پتلی کے بجائے ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ پر نظر جما لی، اس دن تخت اور تاج کا یہ دھوکہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اور تب شاید وادی چنار کے چناروں پر حقیقی بہار آئے گی، جہاں فیصلے غاروں میں نہیں، بلکہ کھلی ہواؤں میں ہوں گے۔

آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ امید رکھیں، ایک دن نظام کی تبدیلی ضرور ہو گی کیونکہ امید تمام تر اندھیروں کے باوجود تاریخ کی سب سے بڑی مزاحمت ہے۔

ایم اے دوشی

post bar salamurdu

ایم اے دوشی

ایم اے دوشی اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی- چیئرمین صدائے سخن پروفائل نام: ایم اے دوشی پیشہ: اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی عہدہ: چیئرمین – صدائے سخن تاریخ پیدائش : 1988 مقام: اسلام آباد، پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button