آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمعظمہ نقوی
اپنی ہر اک ادا میں بہت دل نشین تھا
معظمہ نقوی کی ایک اردو غزل
اپنی ہر اک ادا میں بہت دل نشین تھا
وہ قتل کر کے میرے ہی دل کا مکین تھا
یہ تھا فریب حسن یا حسن فریب تھا
ہر سنگ رہ گزر جو ملا وہ حسین تھا
روشن تھے میری آنکھوں میں ہر سو چراغ شوق
ہستی سراب تھی ترا ملنا یقین تھا
فطرت میں بے وفائی تھی لیکن مرے لئے
خوشبو بکھیرتا ہوا لہجہ امین تھا
سچا ہو عشق جیسے زلیخا کا عشق تھا
چہرہ ہو جیسے چہرۂ یوسف حسین تھا
نقویؔ جو مسکراتا رہا دل کو توڑ کے
اس کے ہر ایک مکر پہ صد آفرین تھا
معظمہ نقوی








