آپ کا سلاماردو کالمزبشریٰ سعید عاطفشعر و شاعری

عید مبارک

بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو نظم

ہو مومنوں کو ہمیشہ پیام عیدمبارک
گگن کے پار سے آیا سلام عیدمبارک

کبھی بھی آئے نہ گلشن پہ میرے غم کا کوئی پل
خُدا کرے رہے چلتا نظام عید مبارک

عبادتوں میں رہیں رات دن یونہی سدا مصروف
ہو مسلمانوں کو یہ اہتمام عید مبارک

افق پہ جیسے ہی آیا نظر ہلال کا یہ چاند
زمانے میں ہو گیا حرفِ عام عید مبارک

یونہی سجے رہیں پلکوں پہ خواب آپ کے ہر دم
دیے جلاتی رہوں گی بنام عید مبارک

ہمارے ربّ کا ہے احسان جس نے ہم کو یہ بخشا
پیئیں گے مل کے سبھی ساتھ جام عید مبارک

خدا سے مانگی ہے میں نے سدا دعا یہی واللہ
ہو دوستوں کو مرے صبح و شام عید مبارک

تمہاری خواہشیں پوری صنم ہوں ساری کی ساری
رہیں حیات میں خوشیاں مدام عید مبارک

ادائے حُسن دِکھا کر مناؤں گی اُنہیں بشریٰؔ
نظر سے پیش کروں گی سلام عید مبارک

بشریٰ سعید عاطف

post bar salamurdu

بشریٰ سعید عاطف

بشریٰ سعید عاطف ایک باصلاحیت اور ہمہ جہت پاکستانی شاعرہ ہیں جو اس وقت یورپ میں مقیم ہیں۔ وہ ادبی دنیا میں اپنی منفرد اور مؤثر آواز کے ذریعے ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری میں مشرقی احساسات اور مغربی تجربات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی بلکہ انسانی احساسات کی گہرائی کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں شناخت، ہجرت، ثقافتی تنوع، اور روحانیت جیسے موضوعات ایک خوبصورت شعری توازن کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ بشریٰ سعید عاطف کی تخلیقات میں پاکستان کی روایتی شعری فضا اور یورپ کے جدید فکری پسِ منظر کا امتزاج واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ فطرت کی خوبصورتی، انسانی رشتوں کی نزاکت، اور یورپی شہروں کی دلکشی کو اپنے اشعار میں نہایت لطیف انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اتر جاتی ہے — چاہے وہ وطن کی یاد ہو، محبت کی لطافت، یا زندگی کے فلسفیانہ پہلو۔ بشریٰ سعید عاطف نے نہ صرف آزاد نظم اور غزل میں اپنی فکری و تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے بلکہ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ، دوہے، ٹپے، اور کلاسیکی و جدید نظم کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر صنف میں ان کی انفرادیت، زبان پر قدرت، اور جذبے کی شدّت نمایاں نظر آتی ہے۔ خاص طور پر ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت و محبت کا ایسا گہرا رنگ جھلکتا ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔ ان کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات کا سفر ہے — ایک ایسا سفر جو قاری کو سرحدوں سے ماورا کر کے انسانیت، محبت، اور روحانیت کی وسعتوں میں لے جاتا ہے۔ اپنی شاعری کے ذریعے وہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کر رہی ہیں جو تہذیبی فاصلوں کو مٹاتا اور دلوں کو قریب لاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button