آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمظفر ڈھاڈری بلوچ
کہاں کسی نے ہمارے عذاب دیکھے ہیں
مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
کہاں کسی نے ہمارے عذاب دیکھے ہیں
جہاں نے صرف خوشی کے ہی باب دیکھے ہیں
کھلی جو آنکھ تو دیکھے سراب پھیلے ہوئے
لگا ہے جیسے محبت کے خواب دیکھے ہیں
کبھی تو شوق نے صحرا کی خاک چھنوائی
کہیں پہ عشق نے بہتے چناب دیکھے ہیں
ہماری نسل کھلائے گی گل نجانے کیا
ہماری پود نے جھوٹے نصاب دیکھے ہیں
تمہاری آنکھوں کا نعم البدل کہاں ممکن
نشیلے نین تو بس لاجواب دیکھے ہیں
ہمارے خواب کی تعبیر میں لکھا تھا یہی
ملے ہیں خار، اگرچہ گلاب دیکھے ہیں
یہ زندگی ہے مظفرؔ، غموں کا غم کیسا
خوشی کے لمحے بھی تو بے حساب دیکھے ہیں
مظفرؔ ڈھاڈری







