- Advertisement -

کوئی تدبیر نِکالی جائے

محمود کیفی کی ایک اردو غزل

کوئی تدبیر نِکالی جائے
دِل میں خواہش ہی نہ پالی جائے

اب کے کُچھ طورِ شِکایت بدلے
اب کے پگڑی نہ اُچھالی جائے

یاس کی شب ہے ، سفر کی خاطِر
تابِ اُمّید بڑھا لی جائے

شرط یہ ہے مِرے قاتِل میری
کوئی بھی وار نہ خالی جائے

مُسکرا کر سرِ محفِل کیفی !
غم کی توقیر بچا لی جائے

محمود کیفی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شجاع شاذ کی ایک اردو غزل