آپ کا سلاماحمد حجازیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

ایک اردو تحریر از احمد حجازی

امتحاں ہے جاری اُن کا اور ہمارا
یہ دنیا کا متع نہ تمہارا نہ ہمارا

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ (3) عنکبوت ” اور ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا ہے ۔ پس اللہ جان کر رہیں گا جو لوگ سچے ہیں اور جو لوگ چھوٹے ہیں ۔
تمام مفسرین اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ اللہ جان کر رہیں گا سے مراد اللہ لوگوں پر ظاہر کر کے رہیں گا کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے وہ تو پہلے سے ہی ہر بات کو جانتے ہیں ۔ یہ آیت ہمیں یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قوموں کے عروج و زوال کے لیے کچھ ضابطے مقرر ہیں ۔ جس میں بنیادی ضابطہ ان کے اخلاق اور اس کے بعد ان کی علمی اور وسائل کی ترقی کو حاصل ہے ۔
ہم آج کے موجودہ حالات کی طرف رُخ کرتے ہیں جو بے شک قوموں کے عروج و زوال کو ظاہر کرتا ہے ۔ جس سے ہم سب کی آزمائش بھی جڑی ہے ۔
سارا ماحول بظاھر اسرائیل کے حق میں بہتر چل رہا تھا غزہ بھی حاصل کرچکا تھا مغربی پٹی پر دباؤ قائم تھا ، جنوب میں حزب اللہ دم توڑتی تحریک بن چکی تھی ایران پر لگام کس چکی تھی ۔ پابندیوں کا شکار بھی تھا ۔
مگر انسان کی فطرت میں عاجلی ہے عاجزی کے بجائے ، اسی لئے اسرائیل جلد سے جلد فیصلہ کن نتائج دیکھنا چاہتا تھا کہ برسوں کا کام منٹوں میں ہو جائے ۔
دراصل عجلت پسندی نے ہی بربادی کا دروازہ کھول دیا!!!! اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ و اسرائیل قدرت کے ” احتساب اور چھٹائی” کا حصہ بن گئے ۔ جس میں یہ بات طئے شدہ امر کی طور پر ابھر کر آئی ہے کہ ایران جنگ کا نتیجہ چاہیے کچھ بھی ہوں مگر امریکہ واحد سوپر پاور اب نہیں رہیں گا ۔اور اس کی جگہ مختلف دیگر طاقتیں لے چکی ہے یہ وہی حقیقت ہے جو اکثر لوگ زبان پر لانے سے گریز کرتے ہیں، مگر جو لوگ**وسیع تناظر** میں دیکھتے ہیں وہ اس سے انکار نہیں کر سکتے۔
ایران کی پالیسیوں سے چاہیے ہم اتفاق رکھتے ہیں یا عدم اتفاق ، مگر یہ حقیقت ہمیں تسلیم کرنا پڑیں گی کہ حالیہ جنگ نے ایران کی تمام کمزوریوں پر پردہ ڈال دیا اور اس جنگ میں امت مسلمہ کے تمام طبقات کی تائید ایران کو حاصل رہی ۔ اور وہ مسلمانوں کے لیے ایک ابھرتی طاقت بن گیا ہے ۔
دنیا میں اس وقت تین ممالک ایسے ہیں جو کامل نظریاتی ہیں ۔ اسرائیل ، ایران اور انڈیا ۔ جن میں ایرانی دفاعی پوزیشن میں ہے جبکہ انڈیا اور اسرائیل جارح قوت کی طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔
اس جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کے کئی ممالک اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ چاہیے یہ تبدیلی مجبوراََ ہو یا عمداٌ ، مگر حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے ۔ جو ملک اس وقت امن امن کی دہائی دے رہیں ہیں آنے والے دنوں میں وہ بھی مجبوراََ جنگوں کا حصہ بنئیں گے ۔
یورپ کی امریکہ سے دوری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اسی طرح شاید آنے والے دنوں میں خلیجی ممالک میں بعض شاید امریکہ و اسرائیل سے مزید قربتیں بڑھائیں گے اور بعض شاید فاصلے بڑھائیں گے ۔
جو لوگ بس فرقہ واریت کی عینک سے ایران کو دیکھتے ہیں اور کسی نہ کسی بہانے سے خود کو اور اپنے چاہنے والوں کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں کہ ایران کی جنگ اسلامی نہیں ، یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل رہیں گے ۔ جس طرح انگریزوں کے زمانے میں بعض لوگ عصری تعلیم کی مخالفت کرتے ہوئے نقصان کا شکار تھے ۔ بلکل اسی طرح ، کیونکہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حقائق سے چشم پوشی انسانی طبقہ کو ترقی اور تحقیق سے روک دیتی ہے ۔
ہمیں چاہیے کہ حالات کی نئی کروٹ بدلنے کو سمجھیں اور خود کو حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر تیار کریں ۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ مسلم ممالک پر جن طاقتوں کا راست دباؤ تھا ۔ اس میں کمی واقع ہوئی ہے اور نیٹو کا متحدہ محاذ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ۔

احمد حجازی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button