نوجوان نسل اور روشن مستقبل
نعمان علی بھٹی کی ایک اردو تحریر
ہر قوم کا مستقبل اس کی نوجوان نسل سے وابستہ ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں کے نوجوان باصلاحیت، باکردار اور باعلم ہوتے ہیں وہ قومیں ترقی اور کامیابی کی منزلیں طے کرتی ہیں۔ اسی طرح جن معاشروں میں نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال نہ کر سکیں وہاں ترقی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ پاکستان بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کا مستقبل اس کی نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔
آج کے نوجوان کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف تعلیم اور روزگار کے مسائل ہیں تو دوسری طرف معاشرتی اور فکری الجھنیں بھی موجود ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کو دنیا سے جوڑ دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سی ایسی مصروفیات بھی پیدا ہو گئی ہیں جو وقت کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ سوشل میڈیا جہاں معلومات اور رابطے کا ذریعہ ہے وہیں اگر اس کا بے جا استعمال کیا جائے تو یہ انسان کی توجہ اور صلاحیتوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی توانائیوں کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کریں۔ تعلیم کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنائیں اور اپنے علم میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں۔ کیونکہ علم ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو شعور دیتا ہے اور اسے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
پاکستان کے نوجوانوں میں بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ کھیل کے میدان ہوں، سائنس اور ٹیکنالوجی کا شعبہ ہو یا ادب اور صحافت کا میدان، پاکستانی نوجوانوں نے ہر جگہ اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں درست رہنمائی اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں۔ صرف تعلیم حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ اچھا کردار بھی کامیابی کے لیے لازمی ہے۔ دیانتداری، محنت اور ذمہ داری جیسے اوصاف وہ بنیادی عناصر ہیں جو ایک نوجوان کو کامیاب انسان بناتے ہیں۔
خاندان اور تعلیمی اداروں کا کردار اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت پر توجہ دیں اور اساتذہ اگر طلبہ کی رہنمائی خلوص کے ساتھ کریں تو نوجوان نسل بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ اسی طرح معاشرے کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرے اور انہیں مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نوجوانوں کو صرف مسائل کا ذکر کرنے کے بجائے حل کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ اگر کوئی رکاوٹ سامنے آئے تو مایوس ہونے کے بجائے محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ تاریخ میں وہی لوگ کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہمت نہیں ہاری۔
پاکستان کو اس وقت ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم، شعور اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں۔ جو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رہیں بلکہ ملک اور معاشرے کی بہتری کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ اگر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں استعمال کریں تو وہ نہ صرف اپنا مستقبل روشن بنا سکتے ہیں بلکہ پورے ملک کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر اس سرمایہ کو صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، علم حاصل کریں، اچھے کردار کو اپنائیں اور ایک روشن مستقبل کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی








