آپ کا سلاممحمد رضا نقشبندی

اک دیا سا جلا ہے کھڑکی میں

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

اک دیا سا جلا ہے کھڑکی میں
کون آ کے کھڑا ہے کھڑکی میں

چاندنی حیرتوں سے تکتی ہے
عکس کس کا پڑا ہے کھڑکی میں

ہاتھ لمبے کیے ہیں بِیلوں نے
پھول تازہ چڑھا ہے کھڑکی میں

کون آیا ہے سامنے یکدم
کوئی دفعاً ڈرا ہے کھڑکی میں

تیری خوشبو فضا میں بکھری سی
ایک گملا پڑا ہے کھڑکی میں

محمد رضا نقشبندی

post bar salamurdu

محمد رضا نقشبندی

محمد رضا المصطفے قلمی نام محمد رضا نقشبندی رہائش کلاس والہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button