خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
میثم علی آغا کی ایک اردو غزل
خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
کیا دُکھ تھے جو اِک عمر کے گریے میں نہ آۓ
میں دشت کو جاتے ہوۓ رستے کا شجر ہوں
کوئی بھی مسافر مرے سائے میں نہ آئے
اللہ کرے تجھ پہ نہ کُھل پائے یہ دنیا
یہ رنجِ اذیت ترے حصے میں نہ آئے
دیواریں ترستی رہیں آبائی گھروں کی
پردیس گئے لعل پلٹنے میں نہ آئے
یہ کیسی مسافت ہے جو کٹتی ہی نہیں ہے
ہم کیسے علاقے ہیں جو نقشے میں نہ آئے
ہم اردو کی تہذیب کے ہیں آخری شاعر
جو جدتِ اظہار کے جھانسے میں نہ آئے
کل شہر میں سنگسار کیا جائے گا مجھ کو
جو دیکھ نہ سکتا ہو تماشے میں نہ آئے
ہر شام سُلگ اُٹھتی ہیں اُن کے لئے آنکھیں
جو قافلے نکلے تو مدینے میں نہ آئے
اب اور کسی زخم کی خواہش نہ جگہ ہے
دشمن ہے تو پھر دوست کے حلیے میں نہ آئے
تھک ہار کے دے آیا ہوں میں آنکھیں کسی کو
اب چاند سے کہہ دو کہ دریچے میں نہ آئے
اُس تک مرے مرنے کی خبر دیر سے پُہنچے
وہ شہر میں ہو کر بھی جنازے میں نہ آئے
رِستا ہے لہو آج بھی اُن زخموں سے میثم
وہ زخم جو اب تک کسی مصرعے میں نہ آئے
میثم علی آغا








