آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

شعر شور انگیز

تبصرہ و تنقید : فراق مجروح یوسفزے

شعر شور انگیز جلد اول از شمس الرحمان فاروقی
تبصرہ و تنقید : فراق مجروح یوسفزے

ہر ورق ہر صفحے میں اک شعر شور انگیز ہے
عرصۂ محشر ہے عرصہ میرے بھی دیوان کا

"شعر شور انگیز” کو پہلی مرتبہ 1990ء اور تیسری دفعہ 2006ء کو قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان نئی دہلی سے شائع کیا گیا ہے دوسری بار کب اور کہاں سے شائع ہوا ہے اس کا مجھے علم نہیں۔ تیسرے ایڈیشن والے پی ڈی ایف سے عکس پبلی کیشنز نے چھاپ کر اپنے انداز سے اس میں محض ضابطے اور ٹائیٹل کا اضافہ کیا ہے۔ یعنی عکس پبلی کیشنز کا یہ ایڈیشن کوئی نیا نہیں بلکہ وہی ہے جو اوپرsher shor angaiz سطور میں مذکور ہو چکا۔ شعر شور انگیز جلد اول کی تیاری 1979 میں شروع کر کے 1990 تک مکمل کیا گیا ہے اور میر کے اس انتخاب کے متعلق موصوف خود لکھتے ہیں:
"اس کتاب کے مقصود حسب ذیل ہیں:
(۱) میر کی غزلیات کا ایسا معیاری انتخاب جو دنیا کی بہترین شاعری کے سامنے بے جھجک رکھا جا سکے۔ اور جو میر کا نمائندہ انتخاب بھی ہو۔
(۲) اردو کے کلاسیکی غزل گویوں، بالخصوص میر کے حوالے سے کلاسکی غزل کی شعریات کا دوبارہ حصول۔
(۳) مشرقی اور مغربی شعریات کی روشنی میں میر کے اشعار کا تجزیہ، تشریح، تعبیر اور محاکمہ۔
(۴) کلاسیکی اردو غزل، فارسی غزل (بالخصوص سبک ہندی کی غزل) کے تناظر میں میر کے مقام کا تعین۔
(۵) میر کی زبان کے بارے میں نکات کا حسب ضرورت بیان۔”
فاروقی صاحب نے جو چیزیں بیان کی ہیں یہ کاوش ان ساری باتوں پر کھری اتری ہے۔ اس شاہکار کی بابت جنابِ عالی کو ہندوستان کے سب سے بڑے ایوارڈ "سرسوتی سمان” سے بھی نوازا گیا ہے۔ شمس الرحمان فاروقی نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا ہے مطلب یہ کہ وہ بہ یک وقت شاعر بھی ہے، مترجم بھی، ناول نگار بھی، تنقید نگار بھی اور ایک بہترین شارح بھی۔ لیکن انہوں ادب کو جو کتابیں دیں ہیں اگر یہ نہ ہوتی تو زیرِ بحث شاہکار ان کے ادب میں موجودہ مقام برقرار رکھنے کے لیے کافی تھا۔ اس انتخاب میں میر کے تمام معیاری غزلیں لائی گئی ہیں۔ اور ان غزلوں سے بھی عمدہ اشعار انتخاب لیے گئے ہیں۔ اگر جہاں پر دو اشعار انتخاب میں نکل آئے ہیں تو وہاں فاروقی صاحب نے ایک برتی کا شعر رکھا ہے۔ یعنی میں یہ کہوں گا کہ فاروقی صاحب کا زیر بحث انتخاب ایک بہترین در شہوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ محمد حمید شاہد صاحب نے میر کا جو انتخاب "انتخابِ غزلیاتِ میر” کے نام سے شائع کیا ہے اس میں انہوں نے غزلوں کی وہی ترتیب رکھی ہے جو شعر شور انگیز کے جلدوں میں ہے۔ فرق فقط یہ ہے کہ حمید صاحب نے جو غزل انتخاب لی ہے اس میں تمام اشعار پورے کے پورے موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب کے ابتدائی اوراق پر فاروقی صاحب نے مولانا روم، علامہ سید علی حیدر نظم طباطبائی، دیبی پرشاد سحر بدایونی، مولانا شاہ اشرف علی تھانوی، میرزا عبدالقادر بیدل عظیم آبادی اور مغربی دانشوروں اور ناقدین کے قیمتی اشعار، آرا اور اقوال سے کتاب کو آراستہ کیا ہے۔ ازاں بعد "تمہید” کے عنوان سے فاروقی صاحب نے اس کتاب کو لکھنے، مرتب کرنے اور چھاپنے کی ساری کدوکاوش کا تذکرہ کیا ہے۔ اور اس بات کی بھی وضاحت دی ہے کہ میں نے کیوں کر یہ انتخاب کیا ہے۔ اس کے بعد "تمہید سوم” کے عنوان سے ایک تحریر ہے جس میں صاحب انتخاب نے قارئین کے مختلف النوع سوالات کے جوابات دینے کی مساعی کی ہیں۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ دیباچے میں فاروقی صاحب نے آٹھ ابواب پر مشتمل میر تقی میر پر مضامین لکھے ہیں۔ باب اول کا مضمون "خدائے سخن میر کہ غالب؟” کے عنوان سے لکھا گیا ہے۔ یہ مضمون اس لیے لکھا گیا ہے کہ اردو ادب میں دو طرح کے گروہ ہیں۔ ایک گروہ میر کو "خدائے سخن” تسلیم کرتا ہے جب کہ دوسرا گروہ غالب کو۔ فاروقی صاحب نے بہت لطیف نکات پر اظہارِ خیال کیا ہے اور یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر ثابت کی ہے کہ اردو میں "خدائے سخن” میر ہی ہے نہ کہ غالب۔ ان دونوں شعرا کے پرستاروں کے علاوہ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہ میر انیس کو خدائے سخن کہنے سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اس گروہ کو تو یہ تحریر خوامخواہ ملاحظہ کرنا چاہیے تا کہ ان کو اپنی خام خیالی پر نادم ہو کر یہ احساس ہوجائے کہ میر تقی میر کو کن بنیادوں پر خدائے سخن کہا گیا ہے۔ باب دوم "غالب کی میری” کے عنوان سے مرقوم ہے۔ اس مضمون میں موصوف نے مختلف حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ غالب نے میر کی عظمت کو فقط تسلیم ہی نہیں کیا ہے بلکہ ان کے دواوین سے استفادہ بھی کیا ہے اور ان سے متاثر بھی نظر آتے ہیں۔ باب سوم ” میر کی زبان، روزمرہ یا استعارہ (۱) اور باب چہارم "میر کی زبان، روزمرہ یا استعارہ (۲) سے معنون ہے۔ ان دونوں مضامین میں میر کے روزمرہ، استعارہ (استعارہ کے ضمن میں، میں فاروقی صاحب کے ساتھ متفق نہیں ہوں) اور میر کی زبان دانی پر مبحث ہے اور چوں کہ وہ استاد شاعر تھے تو زبان پر جس طرح اس کی گرفت تھی اس کی وضاحت جنابِ عالی نے نہایت مدلل اور جامع انداز میں دی ہے۔ بعض ایسے الفاظ اور محاورات پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے جو کہ آج کل متروک تصور کیے جاتے ہیں۔ باب پنچم "انسانی تعلقات کی شاعری” میں میر کے عاشق، غالب کے عاشق اور فراق کے عاشق کا موازنہ کیا گیا ہے اور میر کے عاشق و معشوق کی اختصاص بھی ظاہر کیا گیا ہے۔اور خصوصاً ان کے بیچ جو ڈرامائی انداز موجود ہے اس پر بھی عمدہ مبحث نظر آتا ہے۔ فاروقی صاحب نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ میر دنیاوی رشتوں کے شاعر ہیں۔ بہ الفاظِ دیگر ان کا تخیل زمینی ہے نہ کہ غالب کی طرح آسمانی۔
باب ششم "چوں خمیر آمد بدست نانبا” عنوان سے لکھا گیا ہے۔ یہ عنوان مولانا روم کی "مثنوی معنوی” سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں میر کی شاعری میں جنسیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور میر کے متعلق بہتوں کے دعوؤں کو دلائل و براہین کے ساتھ تردید کی گئی ہے۔ معاملہ بندی، جنسی لذت اور جنسی تجربے کی تمام حسیاتی جہتوں پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ باب ہفتم "دریائے اعظم” کے عنوان سے ہے اس باب میں میر کے عشق اور عشق کے تجربے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اور یہ مبحث میر کی شاعری کی روشنی میں کی گئی ہے۔ باب ہشتم "بحر میر” سے معنون ہے۔ اس باب میں ان کے دواوین اور غزلوں کی تعداد پر باتیں ہوئی ہیں اور ساتھ ہی میر نے جو نئے بحور ایجاد کیے ہیں جو محض میر کا خاصا ہے پر بھی گفتگو ہوئی ہے اور خصوصاً بحر ہندی (جو کہ میر کا من پسند بحروں میں سرفہرست ہے) کو موضوع بنایا گیا ہے۔ باب نہم "شعر شور انگیز” کے عنوان سے ہے اس باب میں میر کی شور انگیزی کو دکھایا گیا ہے۔ اور باقی میر شناسوں نے میر کے متعلق جوں جوں مفروضات بیان کیے ہیں فاروقی صاحب نے ان تمام مفروضات کو یکسر مسترد کیے ہیں جیسے کہ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے میر کے متعلق کہا ہے کہ میر کا کلام سکون اور خاموشی کی تصور ہے۔ آلِ احمد سرور نے میر کے لہجے کی خوش آہنگی اور شیرینی پر زور دیا ہے۔ قاضی افضال حسین نے اپنی کتاب میں میر کے یہاں لہجے کی نرمی اور تاکید کا فقدان، دھیما لہجہ، ٹھہراؤ اور دھیما پن بتایا ہے۔ ان سب کے ساتھ فراق گورکھپوری اور بعض اور ناقدین کی آرا کو دلائل سے رد کیا گیا ہے اور ساتھ ہی میر کے انداز، جلال، ان کے اشعار کا رعب و دبدبہ اور ان کی شاعری میں موجود گونج نہایت ہی احسن طریقے سے واضح کرنے کی سعی بلیغ کی گئی ہے۔ ان ابواب میں شمس الرحمان فاروقی نے جہاں ممکن تھا مشرقی ناقدین کے حوالوں کے ساتھ ساتھ مغربی ناقدین کے حوالے بھی دیے ہیں۔ یہ سارے ابواب تقریباً دوسو آٹھ صفحات پر محیط ہے۔ بعد ازاں میر کے غزلیات کا انتخاب شروع ہوتا ہے ہر غزل کے اوپر نمبر دیا گیا ہے اور پھر اسی نمبر کے ساتھ غزل کے اشعار کو "بٹہ” کی صورت میں لکھا گیا ہے یعنی ۳ نمبر غزل ہے تو اس کے پہلے شعر کی توضیح کو ۳/۱ اور دوسرے شعر کو ۳/۲ اور تیسرے کو ۳/۳ لکھا ہے۔ یعنی غزل الگ سا دیا گیا ہے اور توضیع و تشریح کرتے وقت اسے اسی طرح کے نمبر دیے گئے ہیں۔
غزلیات کے اشعار میں محض تشریح نہیں ہے بلکہ اس میں تنقید، تعبیر، تجزیہ، اور محاکمہ بھی ہے جیسے کہ نکتہ نمبر ۳ میں وضاحت ہو چکی ہے۔ ہر ایک شعر کی توضیع کے دوران اسی شعر کا مضمون اگر میر کے ہاں یا کسی دوسرے شعرا کے ہاں موجود ہے تو نقاد موصوف نے اس کا حوالہ دیا ہے اور اگر میر نے کسی اور شاعر سے مضمون اٹھایا ہے تو بے جھجک فاروقی صاحب نے اس شعر اور شاعر کا بھی برملا ذکر کیا ہے۔ اگر میر نے مضمون کو اچھا بیان کیا ہے تو وہاں داد و تحسین دی گئی ہے لیکن اگر مضمون کو پست کر کے بیان کیا ہے تو وہاں میر پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ توضیحات میں مشرقی و مغربی ادبا کے مضامین اور میر کے مضامین میں جہاں پر بھی توارد آیا ہے تو اسے بھی صریحاً بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میر نے کلام میں جس طرح روزمروں اور محاوروں کا برمحل استعمال کیا ہے اس پر بھی خوب تبصرہ ملتا ہے اور بہت سے محاورات ایسے بھی ہیں جو کہ میر صاحب کا اختراع ہے۔ مثال کے طور پر ایک محاورہ ہے "دہڑ دہڑ جلنا” نقاد صاحب نے اس محاورے پر مدلل گفتگو کی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ یہ محاورہ میر کی ایجاد ہے اور جو دلائل موصوف نے پیش کیے ہیں وہ بالکل روزِ رشن کی طرح واضح ہے۔ اور اس قبیل کے بے شمار محاورات ایسے ہیں جو کہ میر کا اجتہاد ہے۔
شعر شور انگیز میں تمام غزلیات "ردیف الف” کے ہیں اور یہ کل ۱۵۳ غزلیات ہیں جو کہ میر کے چھے دواوین اور شکار نامۂ دوم سے انتخاب لیے گئے ہیں۔ اب میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ "ردیف الف” کا یہ انتخاب پورا ہے کہ نہیں؟ کیوں کہ جب میں نے جلد چہارم میں میر کی ایک شہرۂ آفاق غزل (جو انہوں نے اپنے من پسند بحر "بحر ہندی” میں لکھا ہے) کی کھوج کی تو وہ مجھے نہیں ملی۔ وہ غزل درجِ ذیل ہے:

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے

عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہو گا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا دارا جانے ہے

چارہ گری بیماریٔ دل کی رسمِ شہرِ حسن نہیں
ورنہ دلبرِ ناداں بھی اس درد کا چارا جانے ہے

مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارا جانے ہے

عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ جی اٹھتا ہے دیکھے اسے
یار کے آ جانے کو یکایک عمر دو بارا جانے ہے

تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش
دم دار آبِ تیغ کو اس کے آبِ گوارا جانے ہے

یہ غزل "انتخابِ کلامِ میر” میں ہے نہ "انتخاب غزلیات میر” میں اور نہ ہی شمس الرحمان فاروقی کے مذکورہ انتخاب میں۔ نہ تینوں صاحبِ انتخاب کے ہاں ان سوالات کا جواب ملتا ہے کہ کیا یہ میر کی غزل ہے یا نہیں؟ کیا یہ غزل ان سے منسوب کی گئی ہے؟ اگر یہ غزل میر کا ہے تو کلیات میں کیوں نہیں؟ اگر کلیات میں ہے تو انتخاب میں کیوں نہیں رکھا گیا؟ ان سوالات پر تینوں محترم خاموش ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں میر کے بہت سے گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ جس کے بارے میں خاص و عام کو خبر نہیں تھی۔ میر کے اور بھی بہت سے انتخاب شائع ہو چکے ہیں ان سب میں یہ انتخاب سرفہرست بتائی گئی ہے تو پھر یہ غزل کیوں اس میں شامل نہیں ہے؟
اس انتخاب کے محاکمے کے دوران ادبی و تنقیدی بیسیوں اصطلاحات کی تعریفیں کی گئیں ہیں۔ شعر میں اگر کہیں بھی لطیف سے لطیف نکتہ بھی موجود ہو تو فاروقی صاحب نے نہایت ژرف بینی سے بیان کیا ہے۔ ان تشریحات و توضیحات سے مجھے یہ علم ہوا کہ میر تقی میر ایک نازک خیال، ژرف بیں اور موشگاف شاعر ہیں۔ کتاب کے آخر میں اشاریہ دیا گیا ہے جو کہ فاروقی صاحب کے ہر کتاب میں موجود ہوتا ہے۔ اسی میں با آسانی کسی بھی شخصیت اور اصطلاح وغیرہ کے بارے میں صفحہ نمبر معلوم کیا جا سکتا ہے۔
زیرِ بحث کتاب میں بے شمار خوبیاں ہے ہی لیکن مشت از خروار کے مصداق کچھ خامیاں بھی مجھے نظر آئی ہیں۔ سب سے پہلا یہ کہ فاروقی صاحب کو فقط میر ہی نظر آتے ہیں اور ان کا موازنہ جن شعرا سے بھی کیا گیا ہے۔اس میں حقارت کی جھلک سی محسوس ہوتی ہے غالب کے متعلق جو ان کا خیال ہے وہ تو بجا ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ میر کے مقابلے میں غالب کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اس طرح دبستانِ لکھنؤ کے معروف شاعر خواجہ حیدر علی آتش کو تو وہ شاعر ہی تسلیم نہیں کرتے بلکہ اسے متشاعر سمجھتے ہیں اور ان کے سارے اشعار کو سطحی خیال کا پیکر گردانتے ہیں۔ حالاں کہ فاروقی صاحب میر کے متعلق مصر ہیں کہ میر کو اگر سمجھنا ہے تو ان کے انتخاب نہیں بلکہ کلیات کی طرف رجوع کریں۔ فاروقی صاحب کا یہ فرمایا ہوا محض میر ہی کے بارے میں ہے کیوں کہ اگر موصوف آتش کے کلیات کا اس طرح مطالعہ کرتے جس طرح میر کا کیا ہے تو شاید وہ آتش کو ایسے تحقیر بھرے لہجے میں یاد نہ فرماتے۔ اس طرح فراق گورکھپوری کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے میر کے بہت سے اشعار کے مضامین اٹھائے ہیں اور ان مضامین کو پست کر کے بیان کیا ہے۔ اس طرح نقاد موصوف کی نظر میں درد، قائم، ذوق، مومن، ناسخ، مصحفی، سودا اور انیس وغیرہ میر کے مقابلے کے شعرا نہیں ہے۔ جہاں بھی میر کا محاکمہ کسی اور شاعر سے ہوا ہے تو میر وہاں سبقت لے گئے ہیں۔ اس بات کے تو ہم بھی قائل ہیں لیکن اگر درجہ بالا شعرا کا مطالعہ فاروقی صاحب میر کی طرح کرتے تو شاید ان شعرا کے بارے میں ان کا کچھ اور ہی خیال سامنے آتا۔ یہ بات تو مسلم ہے کہ ہر ایک شاعر کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے اور اس سے انکار کرنا صحیح نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جہاں کہیں بھی حسرت موہانی صاحب کا حوالہ دیا ہے تو وہاں ان کی رائے پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے اس پہ مستزاد یہ کہ ان کی بعض غزلوں کو سطحی خیال کا پیکر بتایا گیا ہے۔
میر تقی میر کے ایسے بہت سے تراکیب ہیں جو کہ محض ان کی ہی ملکیت ہے اس تراکیب کو فقط میر نے استعمال کیے ہیں باقی شعرا نے اس کی طرف توجہ نہیں دی جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یا تو وہ متروک ہوگئے ہیں یا صرف میر تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ لیکن بعض تراکیب میر کے ساتھ ساتھ باقی شعرا نے بھی استعمال کیے ہیں۔ میر کی غزل نمبر ۱۰۵ کا شعر ہے:

صحن میں میر اے گل مہتاب
کیوں شگوفہ تو کھلنے کا لایا

محولہ شعر میں "گل مہتاب” کی ترکیب کے بارے میں فاروقی صاحب کا دعویٰ ہے کہ یہ پیکر صرف میر نے ہی استعمال کیا ہے شاید کسی اور نے اسے برتنے کی سعی کی ہو۔ شاید ان کی نظر سے میر انیس کا یہ شعر نہیں گزرا ہے:

آئی بہار میں گل مہتاب پر خزاں
مرجھا کے گر گئے ثمروشاخ کہکشاں

یہاں "گل مہتاب” کا استعمال میر ہی کی طرح عمدہ کیا گیا ہے۔ لیکن انیس چوں کہ لکھنوی دبستان کا مایہ ناز شاعر ہے اس لیے شعر میں تھوڑا سا تصنع محسوس ہوتا ہے۔
میر چوں کہ ایک استاد شاعر ہے اس لیے انہوں نے عروض کے تقریباً تمام بحور میں غزلیں لکھی ہیں اور بحر ہندی (جو کہ انہی کا خاصا ہے) میں تو اس کا کوئی ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ لیکن زیادہ تر غزلیات میں "خلط” پایا جاتا ہے۔ غزل کے مطلع میں "عروض” اور "ضرب” میں ایک ہی رکن استعمال کیا گیا ہے لیکن باقی اشعار کے مصرعِ اولیٰ کے "عروض” میں "خلط” پایا جاتا ہے، مثلاً مطلع کے "عروض” اور "ضرب” میں "فعولن” کا استعمال ہے تو باقی اشعار کے مصرعِ اولیٰ کے "عروض "میں "فعولان” مستعمل ہے۔ اس طرح "فعلن” ہے تو باقی اشعار کے "عروض” میں "فعلان، فَعِلن یا فَعِلان۔ "فاعِلن” ہے تو باقی اشعار کے "عروض” میں "فاعِلان” ہے۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:
میر اس بے نشاں کو پایا جان
کچھ ہمارا اگر سراغ لگا

ہاتھ دامن میں ترے مارتے جھنجھلا کے نہ ہم
اپنے جانے میں اگر آج گریباں ہوتا

یا قافلہ در قافلہ ان راستوں میں تھے لوگ
یا ایسے گئے یاں سے کہ پھر کھوج نہ پایا

آیا جو واقعے میں درپیش عالمِ مرگ
یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا

ان تینوں اشعار کے عروض میں”خلط” ہوا ہے۔ یعنی میر کی غزلیات تو پڑھنے میں سہل ہیں لیکن تقطیع کرتے وقت ان باتوں کو دھیان میں رکھنا ناگزیر ہے۔ اس طرح بحر ہندی (اور بحر زمزمہ) بھی ہے۔ بحر ہندی کو فاروقی صاحب نے بحر میر بھی کہا ہے یعنی ان کا دعویٰ ہے کہ یہ بحر میر کی ایجاد ہے۔ اس بحر میں جو غزلیں لکھی گئی ہیں اس کے ہر مصرعے کے ارکان دوسرے مصرعے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ یعنی ان میں مضاعف کا استعمال ملتا ہے۔ مثلاً بحر ہندی کا شعر ملاحظہ ہو:

دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھاؤں گا
(فعلُ فعولن فعلن فعلن فعلن فعلُ فعولن فع)
چہرے سے خوں ناب ملوں گا پھولوں سے گل کھاؤں گا
(فعلن فعلن فعلُ فعولن فعلن فعلن فعلن فع)

اگر بحر ہندی کے متعلق کسی کو علم نہیں تو وہ میر کی ایسی غزلوں سے حظ نہیں اٹھا سکتا۔ یہاں ایک اور بات کا بھی ذکر مناسب سمجھتا ہوں کہ شمس الرحمان صاحب اعراب لگانے کے قائل نہیں ہے ان کا یہ موقف ہے کہ اعراب لگانے سے شعر کے معانی و مفاہیم محدود ہو جاتے ہیں۔ لیکن موصوف کو شاید یہ پتا نہیں کہ اعراب کے نہ لگنے پر اکثر مقامات پر میر کے اشعار کا وزن پورا محسوس نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی تقطیع اس بحر میں مکمل ہو سکتی ہے۔ خیر اشعار کا انتخاب بہت عمدہ ہے جن نسخوں سے فاروقی صاحب نے انتخاب لیا ہے وہ تقریباً مستند اور علم عروض کے عین مطابق ہے لیکن پوری کتاب میں چند ایسے اشعار بھی میری نظر سے گزرے ہیں کہ جس میں لفظ درست نقل نہیں کیا گیا ہے۔ شاید نقاد صاحب کا دھیان وہاں نہیں گیا ہے اشعار ملاحظہ ہوں:
پہلا شعر:
لڑکے جہان آباد کے یک شہر کرتے ناز
آجاتے ہیں بغل میں اشارہ جہاں کیا

یہ غزل "بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف” میں ہے اور اس کے ارکان ہیں: "مفعولُ فاعلاتُ مفاعیلُ فاعِلن” مصرعِ اولیٰ میں "جہان آباد” نہیں بلکہ "جہانہ باد” درست ہے اس کے متعلق نقاد موصوف نے لکھا ہے کہ "روزمرہ کے تلفظ سے فائدہ اٹھا کر "جہان آباد” نظم کرکے میر نے اجتہادی کارروائی کی ہے۔ افسوس کہ بعد کے لوگوں نے اس طرح کی آزادیوں کو ترک کردیا۔” (ص: 534)
یہاں پر شمس الرحمان صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ عروض کے مطابق کون سا درست ہے۔ نہ ہی موصوف نے کوئی حاشیہ دیا ہے۔ اگر شعر اسی طرح جس طرح نقل کیا گیا ہے پڑھا جائے تو صریحاً خامی محسوس ہوتی ہے اور میر جیسے استاد شاعر سے یہ خامی سرزد نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا درست لفظ "جہانہ باد” ہے۔ لیکن آسی نے کلیاتِ میر اور محمد شاہد حمید صاحب نے انتخاب غزلیات میر میں "لڑکے جہان آباد کے یک شہر کرتے ناز” مصرع نقل کیا ہے یعنی مصرع یوں ہونا چاہیے:

ع۔ لڑکے جہانہ باد کے یک شہر کرتے ناز (عروض میں خلط ہے)
مفعولُ(لڑکے جَ) فاعِلاتُ(ہا نَ باد) مفاعیلُ(کِ یک شہر) فاعِلان(کرتِ ناز)

دوسرا شعر:
نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
یاد دہ ہے وہ کسو چشم کی گریانی کا

اس مطلعے کا پہلا مصرع کلیاتِ میر، انتخاب غزلیات میر اور زیر تبصرہ کتاب میں بھی اسی طرح درج ہے (البتہ مصرع ثانی میں حمید صاحب نے "یاد دہ” کی جگہ "یاد وہ” نقل کیا ہے) لیکن مصرع وزن پر پورا نہیں اترتا۔ جب کہ یہ پوری غزل "بحر رمل مثمن مخبون محذوف مسکن” میں ہے۔ آئیے اس مصرعے کی تقطیع کرنے کی سعی کرتے ہیں:
فا(نک) عِلا(لِ ہے) تن(چش) فَعِلا(مَ جُ کو) تن(ءی) فَعِلا(جُ ش ۔۔۔۔ اب یہاں سے آگے تقطیع غلط ہو جاتی ہے آئیے اب مصرعے میں "چشمۂ جو” لکھ کر تقطیع کرتے ہیں:
فا(نک) عِلا(لِ ہے) تن(چش) فَعِلا(مَ ءِ جو) تن(کو) فَعِلا(ءِ جُ شے) تن(ز۔۔۔۔) اب یہاں سے آگے پوری تقطیع نہیں ہو سکتی یعنی مصرع وزن پر پورا نہیں بلکہ زیادہ ہے۔ غور کیجیے گا کہ ہم نے تقطیع کی لیکن مصرعے کا وزن زیادہ نکلا۔ صاحب شعر شور انگیز نے لکھا ہے کہ "کوئی بروزن فع ہے” اس لحاظ سے مصرع وزن پر پورا ہوتا ہے لیکن مصرعے کا آہنگ غلط ہے یعنی آہنگ ٹوٹا ہوا محسوس ہوتا ہے جس طرح غزل کے باقی اشعار کا آہنگ ہے اس مصرعے کا آہنگ ویسا نہیں محسوس ہوتا۔
ہٰذا مصرع جیسے شعر شور انگیز میں نقل ہے ٹھیک اسی طرح میر کے مستند نسائخ میں بھی درج ہے۔ اب اس مصرعے میں اگر لفظ "کوئی” حذف کیا جائے اور "چشمہ جو” کو "چشمۂ جو” پڑھا جائے تو پھر وزن پورا ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
ع۔ نکلے ہے چشمۂ جو جوش زناں پانی کا

فا(نک) عِلا(لِ ہے) تن(چش) فَعِلا(مَ ءِ جو) تن(جو) فَعِلا(ش ز نا) تن(پا) فِعْلُن(نی کا)

تیسرا شعر:
گل برگ کا یہ رنگ ہے مرجاں کا ایسا ڈھنگ ہے
دیکھو نہ جھکے ہے پڑا وہ ہونٹ لعل ناب سا

شعر زیر بحث”بحر رجز مثمن سالم” میں ہے۔ دوسرے مصرعے میں لفظ "جھکے” نہیں بلکہ "جھمکے” (بہ معنی چمک دمک) ہے۔ یہ شعر کلیاتِ میر اور انتخاب غزلیات میر میں درست نقل ہے لیکن جنابِ عالی نے یہاں سہواً لکھا ہے۔

چوتھا شعر:
مقصود کو تو دیکھیں کب تک پہنچتے ہیں ہم
بالفعل اب ارادہ تا گور ہے ہمارا

محولہ بالا شعر کلیاتِ میر، انتخاب غزلیات میر اور زیر بحث کتاب میں ایسا ہی درج ہے۔ لیکن یہ پوری غزل ” بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف مکفوف مخنق سالم الآخر” میں ہے لیکن شعر مذکور کے مصرعہ اولیٰ میں "ہیں” اور "ہم” میں سے ایک لفظ اضافی ہے یعنی ان دونوں میں سے ایک لفظ اگر حذف کیا جائے تو مصرعے کا وزن پورا ہوتا ہے۔

پانچواں شعر:
بلبل کو موا پایا کل پھولوں کی دکان پر
اس مرغ کے بھی جی میں کیا شوق چمن کا تھا

شعر زیر بحث کلیات میر میں بھی یوں درج ہے لیکن وہاں لفظ "دُکاّں” (بروزن فعلن) آیا ہے لیکن یہ لفظ مشدد معلوم نہیں ہوتا اس کا تلفظ ایسا ہی سمجھا جائے گا جیسا کہ زیر تبصرہ کتاب میں رقم ہے۔ غزل "بحر ہزج مثمن اخرب مکفوف مکفوف سالم الآخر” میں تخلیق کیا گیا ہے لہذا "دکاں” کی جگہ "دوکاں” درست ہے۔ اور محمد حمید شاہد صاحب نے انتخاب غزلیات میر درست نقل کیا ہے۔
علاوہ ازیں میر کی غزلیات پر تنقید کرتے وقت فاروقی صاحب نے واضح کیا ہے کہ میر محض روتے دھوتے نہیں تھے بلکہ ان کے کلام میں متنوع مضامین موجود ہے۔ لیکن قارئین صرف انتخاب کو ملاحظہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ میر کی ان بوقلمونی سے واقف نہیں جو کہ کلیات میر میں موجود ہے۔ بعض قارئین تو میر پر قنوطیت کا مہر ثبت کرتے ہیں اور جب بھی شعر کی تشریح کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ میر ہمیشہ محبوب کی جدائی اور ہجر میں روتے تھے یا میر ہمیشہ محبوب کے لیے آنسو بہاتے تھے تو اس طرح کے مفروضات کو صاحب شعر شور انگیز نے یکسر مسترد کیے ہیں۔ شعر کی تشریح یوں نہیں کرنی چاہیے کہ میر کہتے ہیں اس سے تو شعر کا مفہوم محدود ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ میرے حساب سے شعر کی یوں تشریح نکلتی ہے یا میں شعر سے کچھ اس طرح مفہوم اخذ کرتا ہوں وغیرہ۔ ہمیں روایتی تشریح کرنے سے گریز کرنی چاہیے اور بازار میں موجود جماعت نہم اور جماعت یازدہم کی اردو گائیڈز نے یہ رائتا پھیلایا ہے اور خصوصاً نصاب میں موجود اس غزل نے ع۔ اشک آنکھو میں کب نہیں آتا” میر پر قنوطیت کا مہر ثبت کیا ہے ۔ افسوس کہ جزو کو کل پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اب اس خیال کو رد کرنے کے لیے میں میر کے مضامین کی بوقلمونی یہاں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

گوندھ کے پتی گل کی گویا وہ ترکیب بنائی ہے
رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں

جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا رنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ

کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

میں نو دمیدہ بال چمن زاد طیر تھا
پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہوگیا

چلتا نہیں ہے دل پر کچھ اس کے بس وگرنہ
عرش آہِ عاجزوں سے اکثر ہلا کیا ہے

صد رگِ جاں کو تاب دے باہم
تیری زلفوں کا ایک تار کیا

مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد
دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا

کیا کم ہے ہولناکی صحرائے عاشقی کی
شیروں کو اس جگہ پر ہوتا ہے قشعریرا

بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا

داغِ فراق و حسرتِ وصل آرزوئے شوق
میں ساتھ زیرِ خاک بھی ہنگامہ لے گیا

سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے
ایک روز تمہیں مانگ کے دیکھیں گے خدا سے

ہمارے آگے تیرا جب کسو نے نام لیا
دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کب خضرو مسیحا نے مرنے کا مزا جانا

بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا

شاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نے
نامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا

باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر
یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخمل دوآبہ

پاؤں چھاتی پہ میری رکھ چلتا
یاں کبھو اس کا یوں گذارا تھا

چھو سکتے بھی نہیں ہیں ہم لپٹے بال اس کے
ہیں شانہ گیر سے جو یہ لڑکے نرم شانہ

میر کا ہر ایک شعر انتخاب ہے اور یہاں میں اس تحریر کو طول نہیں دینا چاہتا۔ بس اسی معدود چند انتخاب پر یہ تحریر سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ویسے تو ہٰذا کتاب پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر میں اس تحریر پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔

گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میر جی بھی کمال رکھتے ہیں

فراق مجروح یوسفزے

post bar salamurdu

فراق مجروح یوسفزے

نام : فراق مجروح یوسفزے - تاریخ پیدائش: 16 اپریل 1996- جائے پیدائش: ضلع بونیر- تعلیم: بی ایس اردو- پیشہ : معلم-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button