آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر طارق قمرشعر و شاعری
یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے
ایک اردو غزل از طارق قمر
یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے
کہ نیند آخر مری کہاں شب گزارتی ہے
یہ بے قراری یہ کرب باطن کا مسئلہ ہے
کہ موجِ دریا جو سر کناروں پہ مارتی ہے
زمانہ کرتا ہے جنگ اس سے ہر اک صدی میں
مگر محبت کہاں زمانے سے ہارتی ہے
کسی کے چہرے سے چھین لیتی ہے تابناکی
کسی کے چہرے کو فاقہ مستی نکھارتی ہے
خدا کو پانے کی چاہ لاشوں سے ہوکے گزرے
کسی کو ایسے بھی کیا خدائ پکارتی ہے
اب اس میں سوراخ ہو چکے بس یہ دیکھنا ہے
کہ ناؤ کس کس کو اب کنارے اتارتی ہے
پھر آسمانوں کی وسعتیں تنگ ہو رہی ہیں
یہ لگ رہا ہے کہ مجھ کو مٹّی پکارتی ہے
ڈاکٹر طارق قمر








