آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

شیخ خالد زاہد کا اردو کالم

لفظ کاسمیٹک سرجری (جراحی برائے تزئین)سے قارئین بخوبی واقف ہونگے اور اکثر ایسے ہونگے جو اس عمل سے گزرنے کی خواہش رکھتے ہونگے یہ جانے بغیر کے ” حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے اور خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے”، کچھ ایسے بھی ہونگے جو اس حقیقت سے خوب واقف ہونگے۔ کسی بھی معاملے کی جزیات کو جانے بنا اس کی نوعیت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس حقیقت سے آپ نظریں چرائیں لیکن بغیر جزیات جانے تدبیر تادیر کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔سوچنے سمجھنے کی عمومی صلاحیت تو ہر انسان کو میسر ہوتی ہے لیکن جن معاشروں میں بے یقینی، لاتعداد چھوٹے مسائل، عدم برداشت اور اس طرح کی چھوٹی چھوٹی بیماریاں ہوتی ہیں وہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مخصوص مقاصدکے حصول تک محدود ہوتی ہے۔ تعلیمی نظام اورعدل کا نظام مذکورہ صلاحیتوں کو منظم اور مستحکم کرنے میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور قوموں کے مزاجوں میں توازن، تحمل اور تدبر پیدا کرتے ہیں جن کی بنیادوں پر قوموں میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے اور تدبیر تادیرکارگر ثابت ہوتا ہے۔ایسی قومیں بروقت فیصلے کرتی ہیں کیوں کہ ان کے پاس سوچنے اور پرکھنے کا سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔ وہ قومیں جو کھلکھلا کر ہنسنے پر مسکرانے کو ترجیح دیتی ہیں جو یہ واضح کرتا ہے کہ قوم کو اس بات ادراک ہے کہ اپنی توانائیوں کا صحیح استعمال کہاں کب اور کیسے کرنا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنا کیسا تاثر مجلس میں چھوڑ کر اٹھنا ہے، ہنسنے کی بجائے مسکرانا اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق بھی ہے۔

شائد ہم آج تک ترقی کا پیمانہ طے نہیں کر پائے کیونکہ نا تو ہمارا تعلیمی نظام ہمیں کوئی ایسا بڑا نام دے سکا ہے کہ جس نے دنیا میں اپنے علم کی بنیاد پر ملک کا نام اس طرح روشن کیا ہو جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکیں کہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور یہ اس با ت کی بھی گواہی ہے کہ ہم تعلیم کو لے کربھی تا حال سنجیدہ نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ ہمارے یہاں پی ایچ ڈی نہیں ہو رہی یا پھر کوئی ایسا علم نہیں جو ہماری درسگاہوں میں ناپڑھایا جا رہا ہو جو دنیا میں رائج ہو، تمام علوم بھرپور طریقے سے پڑھائے جا رہے ہیں۔ان مخلص اساتذہ سے انتہائی معذرت کے ساتھ کہ اب تعلیم کاروبار بن چکا ہے اور درسگاہیں کسی بین الاقوامی ادارے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔جہاں وسائل دستیاب ہیں وہ بچے بین الاقوامی درسگاہوں تک علم کی پیاس بجھانے جا رہے ہیں۔ دعوی تو نہیں کرسکتا لیکن شائد ہی دنیا کی کوئی ایسی درسگاہ ہو جہاں پاکستان سے گیا ہوا بچہ زیر تعلیم نا ہوجس سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ ہم انتہائی قابل لوگ ہیں لیکن نا اپنی قابلیت کو پہچانتے ہیں اور ناہی پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم سنجیدہ قوم نہیں ہیں۔تعلیم پیسے سے حاصل کی جاتی ہے اور پیسہ کمانے کیلئے کی جاتی ہے۔ یہاں کثیر تعداد اس غرور اور تکبر کی بھینٹ چڑے ہوئے رہتے ہیں کہ وہ بیرونِ ملک پڑھ کر آئے ہوئے ہیں تو ذہنی ہم آہنگی کہاں سے ہوسکے گی۔اس سارے معاملے میں کہیں بھی سنجیدگی کا عنصر نہیں دیکھائی دیتا جو ہمیشہ سے ہی لمحہ فکریہ ہے۔ قوموں کے زوال کا سبب فکر کا قہقہوں کی گونج میں کھو جانا ہے۔

قومیں کسی بھی مسلئے پر اپنے رد عمل سے اپنا مزاج بتاتی ہیں، تفریحی سرگرمیاں ہوں یا پھر کھیلوں کے میدان سجے ہوں قوم کے مزاج کو پرکھنے کیلئے کافی ہیں، ہم ہر ہر تہوار بھرپور طریقے سے مناتے ہیں اور اپنے عزم اور حوصلہ کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں لیکن فقط تفریح کی حد تک۔اس ساری کارگزاری میں ایک انتہائی اہم جز جسے ہم نظر انداز کردیتے ہیں اور وہ ہے ہماری سنجیدگی کیونکہ ہم خوشی یا غم میں نظم و ضبط کی ساری حدوں کو متاثر کرتے بلکہ روند دیتے ہیں۔بہت سادہ سی مثال ہے بارش شروع ہوتے ہی سارے شہر میں ذرائع نقل و حمل کا نظام بدترین بدنظمی کا شکار ہوجاتا ہے اور جو راستہ تیس سے چالیس منٹوں میں طے پانا ہوتا ہے وہ گھنٹوں پر محیط ہوجاتا ہے، بدنظمی پیدا کرنے والا کسی دوسرے سیارے سے نہیں آتا بلکہ وہ ہم ہی ہوتے ہیں جو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوتے ہوئے بے دریغ لائنیں تبدیل کرتے ہیں اور ذرائع آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کا سبب بن جاتے ہیں اور الزام کسی دوسرے پر ڈال دیتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال کسی حادثے میں بھی دیکھی جاسکتی ہے غرض یہ کہ انتہائی پڑھے لکھے لوگ بھی اسی ڈھب پر چلتے دیکھے جاسکتے ہیں۔

کسی بھی پیمانے کے بغیر پرکھا نہیں جاسکتا اور پیمانے کا تعین تحقیق اور تجربے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ بات ابھی ابھی میں ہوتی ہے اور وقت نکل چکا ہوتا ہے یعنی دنیا کا سفر اب تیز ترین ہو چکا ہے۔ہم سنگاپور، متحدہ عرب امارات، بنگلادیش، جاپان اور بہت سارے ایسے ممالک کی جدوجہد سے واقف ہیں جن کی بدولت آج ان ممالک نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے، ان ملکوں کے افراد نے ایسے لوگوں کو اقتدار سونپا کے جن کی بدولت ان ملکوں نے نا صرف ترقی کی بلکہ دنیا میں اپنی موجودگی کا ڈنکا بجایا اور اپنے سنجیدہ روئیے کا دنیا سے باقاعدہ ستائش لی۔ ہماری یہاں سیاسی و مذہبی جلسے جلوس عام ہیں، ہمارے یہاں فکری نشستوں کا فقدان ہے۔ علم بھی کتابوں میں لکھا ہوا پڑھایا جاتا ہے اور اسی کو یاد کر کے امتحان دیا جاتا ہے، ہمیں تحقیق کی طرف اکسایا ہی نہیں جاتا، ہمیں اخذ کرنے کا ہنر نہیں سکھایا جاتا، پھر ہم کیسے ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ہم درآمدات یعنی غیر ملکی اشیاء کا استعمال قابل فخر سمجھتے ہیں۔

ہم نے اپنی آزادی کے ابتدائی ادوار میں دنیا کے دوسرے ممالک کی مختلف طریقوں سے معاونت کی کسی کو مالی طور پر تو کسی کو تکنیکی مہارت سے ترقی کی راہ پر گامزن کیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہم خود بے ساکھیوں کے محتاج ہوکر رہ گئے، ہم اس کی ایک وجہ اپنے سنجیدہ نا ہونے کو دے سکتے ہیں۔ قومیں سنجیدہ ہوتی ہیں تو انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا وہ معاملات کے حل پر کام کرتی ہیں اپنی نسلوں کی تربیت اس طرح کرتی ہیں، دنیا میں تہذیب و تمدن انہیں قوموں کا نمایاں ہوتا ہے جو سنجیدگی سے اپنی مصنوعات کو استعمال کرتی ہیں اور ان پر فخر محسوس کرتی ہیں۔یوں تو ماضی میں بھی ہم نے کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں لیکن ہم ان کا ذکر کرتے چلیں جو ابھی ہمارے اذہان میں موجود ہیں،ہم نے کووڈ ۹۱کو بہترین حکمت و بصیرت اور معاملہ فہمی سے نبردآزما ہوئے، ہم نے بھارت کو انتہائی قلیل عرصے میں دودفعہ عزم و حوصلہ اور تکنیکی مہارت سے دھول چٹائی اور تاریخ کا ایک اہم ترین خطے کا مسلۂ امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازعہ جسے کسی حد تک جنگ بھی کہا جاسکتا ہے تاحال کسی بڑی جنگ کی طرف جانے سے ہم نے روکا ہوا ہے۔یہ وہ چند بین الاقوامی اقدامات ہیں جنہیں ساری دنیا انتہائی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتی ہے لیکن ہمارے غیر سنجیدہ روئیے ہمیں ایسے امور میں محارت رکھنے کے باوجود دنیا میں وہ مقام نہیں دلا پائے اس کے برعکس اگر ہم ایک سنجیدہ قوم ہوتے تو آج ہم بھی سپر پاور کی صف میں روس، چین اورایران کے برابر کھڑے ہوتے۔ ہم سنجیدہ ہوتے ہیں مگر کسی سانحے کے وقت کسی حادثے کے وقت۔اگر وقت اجازت دے تو ذرا سوچیں!

شیخ خالد زاہد

post bar salamurdu

شیخ خالد زاہد

ایسوسی ایٹ جنرل سیکرٹری، ہماری ویب رائٹرز کلب (HWC) ممبر پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ (PFUC)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button