زمانے!
مرے ذہن کی کون سی وہ کلیں ہیں
کہ جن کا مقدر تری آشنائی ہے
تجھ تک رسائی کے سب مرحلے ہیں
تری جستجو میں،
میں پُر پیچ راہوں،
گھنے جنگلوں، نیلگُوں پانیوں
اور ہواؤں فضاؤں میں محوِ سفر ہوں
مگر میری قسمت میں لاحاصلی ہے
یہ شہ رگ سے نزدیک تر کا سفر کاٹتے
عمر بھی کٹ چلی ہے
زمانے!
تری جستجو کے کٹھن مر حلے ہیں
مگر اب بھی میں تھک کے بیٹھا نہیں ہوں
شہباز خواجہ







