جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز: وزیراعظم شہباز شریف کا تاریخی خطاب
26 ستمبر 2025 کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جس بے مثال اعتماد، بصیرت اور عالمی شعور کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کی، وہ ہمارے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے۔ ان کا خطاب نہ صرف موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر ہمارے موقف کو مستحکم کرنے کی ایک شاندار کوشش بھی ہے۔
شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے پاکستان کی دفاعی حکمت عملی اور پاک فوج کی قربانیوں کو بے حد موثر انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مئی 2025 میں ہونے والے فوجی تصادم میں پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو بھرپور انداز میں استعمال کیا اور سات بھارتی طیارے مار گرائے۔ اس کے باوجود، انہوں نے عالمی برادری کے سامنے واضح کیا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ اس موقف سے نہ صرف پاکستان کی طاقت بلکہ اس کی ذمہ داری اور دانش مندی بھی ظاہر ہوتی ہے۔
وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دکھایا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ میں ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ کہنا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت کی تعریف کی اور امن کی کوششوں میں ان کے کردار کو سراہا، عالمی سیاست میں پاکستان کی دانش مندی اور مثبت کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں خطے میں امن و استحکام، بھارتی جارحیت کے اثرات، اور ثالثی کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس ملاقات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کو عالمی سطح پر مزید واضح اور مستحکم کیا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں ان کا بیان دل کو چھو لینے والا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، حالانکہ اس کا عالمی گرین ہاؤس
گیسوں میں حصہ محض ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مظلوم عوام کے لیے عالمی برادری سے موسمیاتی فنڈنگ میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ نہ صرف پاکستان کی سماجی اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عالمی شعور کے فروغ میں بھی ہماری قیادت کو اجاگر کرتا ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر شہباز شریف کا موقف پوری طرح واضح اور انصاف پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کے دلخراش سانحے میں سے ایک فلسطین کا بحران ہے۔ اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم نے خواتین اور بچوں پر ناقابل بیان خوف مسلط کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ 8 دہائیوں سے فلسطینی عوام اپنے وطن کا دفاع کر رہے ہیں اور مغربی کنارے پر غیر قانونی یہودی آباد کار دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان ان پہلے ممالک میں شامل ہے جس نے فلسطین کو ریاست تسلیم کیا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے تحت خودمختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کیا۔ اسرائیل کی غزہ پر جارحیت اور دوحہ پر حملوں کو انہوں نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا۔
کشمیر کے مسئلے پر ان کا موقف ہر اعتبار سے پختہ اور روشن تھا۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر دوٹوک موقف اختیار کیا اور کہا کہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کے ظلم و ستم کا دور ختم ہوگا۔ جموں و کشمیر کو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان خطرناک فلیش پوائنٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کے تحفظ میں کبھی رعایت نہیں کرے گا۔ بھارت کی آبی دہشت گردی، سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اور پانی کے حقوق کی پامالی پر بھی انہوں نے سخت موقف اختیار کیا، جس سے پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
افغانستان میں امن اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کو بھی انہوں نے بے حد موثر انداز میں اجاگر کیا۔ بلوچستان میں فتنہ انگیزی کرنے والے دہشت گرد عناصر اور ان کی پشت پناہی پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پُرامن افغانستان کا خواہاں ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن کردار ادا کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک عالمی فورم ہے جہاں ہر ملک اپنی پالیسیوں، امن کے عزائم، اور عالمی مسائل پر اپنا موقف پیش کرتا ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کی نظریاتی، سیاسی اور اقتصادی ترجیحات سامنے آتی ہیں اور عالمی برادری کے سامنے ملک کی پوزیشن کو واضح کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اس فورم پر دیا گیا خطاب اسی اعتبار سے بے حد اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف پاکستان کے دفاعی اور سفارتی موقف کو عالمی سطح پر واضح کیا گیا بلکہ انسانی حقوق، فلسطین اور کشمیر کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی، اور علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو بھی اجاگر کیا گیا۔ یہ خطاب پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مضبوطی، عالمی شعور میں مثبت کردار، اور عالمی فورمز پر مؤثر آواز بلند کرنے کی صلاحیت کا عملی مظہر ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی غیر موجودگی بھی اس خطاب کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے۔ مودی کی غیر حاضری اس بات کی علامت ہے کہ بھارت اپنے عالمی موقف اور کشیدہ تنازعات، خصوصاً کشمیر اور خطے میں امن و سلامتی کے مسائل، پر مؤثر جواب دینے میں ناکام رہا۔ بھارت کی خارجہ پالیسی مسلسل تنقید کی زد میں رہی ہے، جس میں جارحیت، یکطرفہ اقدامات، اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔ اس موقع پر پاکستان نے شفاف، اصولی اور مؤثر انداز میں اپنے موقف کو پیش کر کے عالمی سطح پر اعتماد اور مثبت شناخت حاصل کی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی نے موجودہ حکومت کے تحت ایک نئے عزم اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف ملک کی خودمختاری اور دفاع کو مستحکم کرتی ہے بلکہ عالمی برادری میں پاکستان کی مثبت اور اصولی شناخت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، پاکستان نے عالمی فورمز پر اپنے موقف کو شفاف، دانشمندانہ اور مؤثر انداز میں پیش کیا، چاہے وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ثالثی ہو، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ، یا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ کا یہ تاریخی خطاب نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کا عملی مظہر تھا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کرنے، اصولی موقف پیش کرنے اور عالمی عوام و رہنماؤں پر مثبت اثر ڈالنے کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی قیادت عالمی چیلنجز کے سامنے پراعتماد اور مؤثر کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
یوسف صدیقی








