- Advertisement -

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

احمد خیال کی اردو غزل

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں

پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی

جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں

انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے

اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں

پھر اتر آئے ہیں پلکوں پہ سسکتے آنسو

پھر کسی شام کے آنچل کو بھگونا ہے ہمیں

یہ جو افلاک کی وسعت میں لیے پھرتی ہے

اس انا نے ہی کسی روز ڈبونا ہے ہمیں

احمد خیال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
احمد خیال کی اردو غزل