آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمظفر ڈھاڈری بلوچ

نتھلی نہیں ہے گویا رخِ ماہ تاب پر

مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل

نتھلی نہیں ہے گویا رخِ ماہ تاب پر
تتلی سفید بیٹھی ہے جیسے گلاب پر

ان پڑھ، مگر حیا کا ہے پیکر وہ گاوں کا
حاسد ہیں لوگ مجھ سے مرے انتخاب پر

ہر لفظ خوشبووں میں نہایا ہؤا ہے آج
اسکی نظر پڑی ہے پرانی کتاب پر

جنگل سے کم ہوئے ہیں پرندے تو کیا ہوا؟
الزام کوئی رکھ نہ سکے گا عقاب پر

دشتِ جنوں کو کوئی مرا یہ پیام دے
ڈالے گا خاک عشق یہ، خانہ خراب پر

ناکام ہوکے پیار کسی سے نہ مانگنا
آتا ہے سب کو پیار مگر کامیاب پر

محفل نہ لوٹ لے تو مظفرؔ پہ حیف ہے
لکھ دی غزل جو اس نے تمہاری نقاب پر

مظفرؔ ڈھاڈری

post bar salamurdu

مظفر ڈھاڈری

اصل نام مظفر علی بلوچ اور قلمی نام مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ ہے۔ آپ یکم مارچ 1998 کو تحصیل لہڑی، ضلع سبی کے قدیم و سادہ دل گاؤں تریہڑ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی کی عمر تھی جب والد کی ملازمت کے سبب خاندان نے ڈھاڈر، ضلع بولان کا رخ کیا۔ آٹھ دس برس کی عمر کے اس کم سن مسافر نے جب ڈھاڈر کی مٹی کی خوشبو، ہوا کی نرمی اور لوگوں کی محبت دیکھی تو یوں لگا جیسے یہ زمین اس کے وجود کی بُن میں جاگھسی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں آپ نے اپنے نام کے ساتھ ڈھاڈری کا لاحقہ اختیار کیا، جیسے شناخت اور محبت کا ایک حسین امتزاج۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایف۔ایس۔سی تک کا زمانہ ڈھاڈر ہی کی درسگاہوں میں بسر کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بلوچستا یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے آپ نے ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور زبان و ادب کے وسیع بحر میں اپنے لیے ایک راستہ متعین کیا۔ شاعری کے مزاج اور فن کی تربیت کے لیے آپ نے کئی تجربہ کار اور معتبر اساتذہ سے فیض حاصل کیا جن میں شاہ نواز راہی، ذوالفقار یوسف، فیاض تبسم نیازی جیسے نام شامل ہیں۔ موجودہ دور میں آپ نامور شاعر حسرت رشید سے باقاعدہ اصلاح لے رہے ہیں اور ان کی شاگردی میں شاعری کے رموز و دقائق کو نہایت شوق اور انہماک سے سیکھ رہے ہیں۔ مظفر ڈھاڈری نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر کے مشاعروں میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔ مختلف ادبی محفلوں، قومی و صوبائی مشاعروں اور ثقافتی تقریبات میں آپ بارہا مدعو کیے جاتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button