آپ کا سلاماردو غزلیاتاویس خالدشعر و شاعری
پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں
ایک اردو غزل از اویس خالؔد
پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں
پھر شوق سے لا حاصل و تحصیل دیکھ لوں
میرا مزاج کیسا ہو مجھ پر ہے منحصر
ہابیل دیکھ لوں کہ میں قابیل دیکھ لوں
اے کاش مجھ کو اتنی تو مہلت نصیب ہو
دشمن کے میں زوال کی تکمیل دیکھ لوں
کربل جو میرے پاس ہے اب بھی بطورِ درس
کیسے میں کوئی دوسری تمثیل دیکھ لوں
ہر اک سزا ہی کم لگے دعویٰ ہے میرا یہ
اپنے کبھی جو جرم کی تفصیل دیکھ لوں
دونوں میں پائی جاتی ہیں گہری خموشیاں
آنکھیں میں اپنی دیکھ لوں یا جھیل دیکھ لوں
خالد بڑی تمنا ہے تھکنے سے پہلے ہی
منزل پہ جگمگاتی میں قندیل دیکھ لوں
اویس خالدؔ








