اردو غزلیاتشاہد ذکیشعر و شاعری

آگ پانی میں لگا کر اسے بادل کر دوں

شاہد ذکی کی ایک اردو غزل

آگ پانی میں لگا کر اسے بادل کر دوں
سوچتا ہوں کہ اُدھورے کو مکمل کر دوں

دیکھتے ہیں جو تماشا مرے پاگل پن کا
کیا تماشا ہو اگر ان کو بھی پاگل کر دوں

اب تو سوچا ہے تری آنکھ میں رہنے کے لیے
جسم کو راکھ کروں اور ترا کاجل کر دوں

جانور سا کوئی مجھ میں مجھے اُکساتا ہے
دشت کو شہر کروں، شہر کو جنگل کر دوں

تجھ کو یہ زعم کہ تصویر ترے دم سے ہے
اور اگر میں تجھے تصویر میں اوجھل کر دوں

نعمت ِ غم پہ کیا شکر تو مالک نے کہا
تُو کہے تو میں یہ انعام مسلسل کر دوں

آخری بار اُسے ملنا ہے بچھڑنے کے لیے
سوچتا ہوں کہ ملاقات معطل کر دوں

جی میں آتا کہ صندوق میں رکھوں دنیا
اور صندوق ہمیشہ کو مقفل کر دوں

رتجگوں سے تو کرامات ہیں مجھ میں شاہد
بستر ِ سنگ میں کیوں بستر ِ مخمل کر دوں

شاہد ذکی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button