- Advertisement -

روشانے کی رخصتی

بینا خان کے ناول محبت سے محبت ہے سے اقتباس

” بولو روشنی”
” ہاں میرا نام روشانے ہے جینی میں تو اس نئی دنیا میں خود کو کھونے آئی تھی یہ وہ نام ہے جسے دو سال سے اپنی زبان سے نہیں لیا پتا ہے کیوں ؟؟؟ کیونکہ اسے اس نام سے اب نفرت ہے جینی ”
” مجھے پوری بات بتاؤ روشنی معاملا کیا ہے ” اور جینی کے کہنے پر روشانے نے ساری بات کہہ ڈالی
” اوہ مائے گاڈ روشنی تم۔پاگل۔تھیں جو تم نے ایک اجنبی کی بات پہ بھروسہ کیا اور اپنے شوہر سے جھوٹ بولا ”
” تم بھی مجھے بلیم کر رہی ہو؟؟؟ اس نے کیا کیا میرے ساتھ وہ نظر نہیں آتا تمہیں ”
” روشنی اس نے جو کیا اس سچویشن میں کوئی بھی ہوتا تو یہ ہی کہتا یہ ہی کرتا غلطی تمہاری ہے نا تم جھوٹ بولتیں اور نا ایسا ہوتا تم۔اسے بے وفا کہتی ہو اب خود اندازہ کر لو کہ کیا سچ میں وہ ایسا ہے ”
” مانتی ہوں کہ میں نے جھوٹ بولا پر اس کی اتنی بڑی سزا”
روشنی زندگیاں برباد کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ جھوٹ کا ہی ہے” جینی نے کہا تو اس نے چونک کے جینی کو دیکھا
” اور میرا مشورہ ہے کہ تمہیں پاک جانا چاہیے”
” پر جینی اس نے مجھ پہ جو الزام لگایا وہ”
” اس کے بارے میں تم اس سے بعد میں پوچھ لینا پہلے اس سے معافی مانگو” جینی اسے سمجھانے لگی اور اسے پاکستان جانے کے لیے منانے لگی۔
**********
بوسٹن آنے کے بعد اس کی رالف سے ملاقات ہوئی وہ دونوں باتیں کرنے لگے رالف کے دوست کی کال آئی وہ اس سے بات کرنے کے لیے آگے چلا گیا
” ہاں یار کام تو ہو گیا تمہیں تو پتا ہے نا جو چیز میری نہیں ہو سکتی وہ کسی کی نہیں ہو سکتی روشانے بھی انہی چیزوں میں سے ایک ہے میرے لیے وہ میری نہیں ہوئی تو اس وجدان کی کیسے ہو سکتی تھی بس معاملا ہی ختم کر دیا میں نے ” دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو وہ زور سے ہنسا اور مڑا تو دیکھا روشانے پیچھے ہی کھڑی تھی اور سب سن چکی تھی
” روشانے تم۔۔۔”
” چٹاخ۔۔۔” روشانے نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کیا
” اس ہی لائق ہو تم پوری زندگی برباد کر کے رکھ دی تم نے میری زندگی برباد کر دی تم نے سوچا بھی کیسے ہاں ” اس نے رالف کا گریبان پکڑ لیا
” تم مجھے پانا چاہتے تھے تم سے زیدہ خود غرض آدمی میں نے زندگی میں نہیں دیکھا لانت بھیجتی ہوں میں تم پہ ” اور جانے لگی تو رالف نے اس کا ہاتھ پکڑا
” روشانے آئم سوررر۔۔۔۔ ” روشانے پلٹی اور ایک اور تھپڑ اس کے گال پہ مارا
” آئیندہ میرا ہاتھ پکڑنے تو کیا میرے سامنے آنے کی بھی جرأت نہ کرنا ورنہ جان لے لوں گی تمہاری ” اوروہاں سے چلی گئی۔
***********
” جینی تم ٹھیک کہتی ہو میں پاکستان جانے کے لیے تیار ہوں ولید بھائی کی شادی بھی ہے اگلے ہفتے”
” گڈ”
” پر ہاں میں اس سے ناراض ہی رہوں گی”
” افففف توبہ لڑکی حد ہے اچھا بھلے ناراض رہنا پر پاکستان جاؤ تمہارے پیرنٹس نے کیا گناہ کیا ہے جو تم انہیں بھی دکھ دے رہی ہو”
” ہممم۔۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہو” وہ سوچ کے بولی۔
آج دو سال بعد اس نے پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکھا تھا وہ خوش بھی تھی پر ایک اداسی اس کے اندر اترنے لی تھی وہ اپنی کیفیات سمجھ نہیں پارہی تھی بہت سی یادیں پھر سے تازہ ہوگئی تھیں اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں ائیر پورٹ پہ ماما بابا اور ولید بھائی اسے لینے آئے تھے وہ ان سے ملی اور سکون سا اس کے دل میں اترنے لگا اس کے پیرنٹس اسے دیکھ کے بہت خوش تھے بار بار ان کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں وہ گھر آئی اور اپنے کمرے میں فریش ہونے چل دی فریش ہو کر وہ کھانا کھانے بیٹھی تو ولید بولا
” روشی۔اتنی لیٹ آئیں وہ بھی اپنے اکلوتے بھائی کی شادی میں دس از ناٹ فئیر ”
” سوری بھائی ” روشانے شرمندہ تھی
” اب تو نہیں جائے گی نہ میری گڑیا” ماما پیار سے بولیں تو ولید بولا
” اففف ماما یہ اب جائے گی ضرور بٹ اپنے سسرال” روشانے چونکی
ماما مسکرائیں ” ہاں انشآاللٰہ ”
” ماما پلیز ابھی کوئی بھی بات نہ کی جائے میری شادی سے ریلیٹد ”
” اوکے بیٹا کھانا کھاؤ تم ” وہ چپ کر کے کھانا کھانے لگی کھانا کھانے کے بعد وہ اپنے روم میں جانے لگی تو ولید چلا آیا
” تم تھکی ہوئی تو نہیں ہو روشی”
” نہیں بھائی کیوں کیا ہوا خیریت”
” ہاں بات کرنی تھی کچھ تم سے”
” جی بھائی آجائیں روم میں بیٹھ کے بات کرتے ہیں ”
” جی بھائی کہیں ” روشانے اور وہ بیڈ پہ بیٹھے تو روشانے بولی
” گڑیا ماضی میں جو کچھ ہوا وہ سب بہت غلط ہوا تھا تمہارے ساتھ ” وہ ولید بولنے لگا
” وہ سب ایک مس انڈراسٹینڈینگ تھی” روشانے خاموشی سے سن رہی تھی
” تم نے جب رالف کے بارے میں ہمیں بتایا گڑیا تو میں وجدان کے پاس گیا تھا اسے حقیقت بتانے پر پتا ہے اس نے کیا کہا اس نے کہا روشانے نے مجھ سے جھوٹ بولا اگر وہ سچ بولتی تو پھر مجھے ساری دنیا بھی بھڑکا دیتی نا تو مجھے یقین نا آتا روشانے گڑیا غلطی تمہاری ہے تمہیں اس سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا ”
” میں مانتی ہوں بھائی میں نے جھوٹ بولا پر صرف اس لیے بولا کہ انہیں برا نہ لگ جائے صرف اس لیے اور انہوں نے مجھ پہ اتنا بڑا الزام لگایا”
” تو بیٹا الزام لگانے کا موقع دیا کس نے؟؟؟ تم نے نا۔۔۔۔ نا تم جھوٹ بولتیں اور نا ایسا ہوتا میں یہ نہیں کہتا غلطی تمہاری ہے غلطی وجدان کی بھی ہے پر پر اس غلطی میں سب سے زیادہ شراکت تمہاری ہے”
” اس کو میں نے ساری بات بتائی تو اس کی حالت دیکھتیں تم روشی وہ ایک دو دفعہ بوسٹن بھی گیا تھا صرف تمہیں دیکھنے اور صرف تمہیں دیکھ کے آ گیا تم سے ملا نہیں کیونکہ شرمندہ تھا تم سے وہ روشی”
روشانے کے دل کو کچھ ہوا ” کیا۔۔۔۔”
” ہاں روشی ”
” پر بھائی ”
” روشی آپ کو اپنے ریلیشن کے بارے میں اب سوچنا ہو گا آنٹی انکل اب تمہیں اپنے گھر لے جانا چاہتے ہیں جب جینی نے ہمیں بتایا کہ تم پاکستان آرہی ہو تو انہوں نے فوراً کہہ دیا کہ اب بس اب روشی کو منانا ہے تم اس بارے میں سوچو گی نا” اس نے پوچھا
اوکے” اس نے سر ہلایا۔
*********
وجدان کو پتا چلا کہ روشانے پاکستان آگئی ہے تو وہ اس سے ملنے کو بے چین ہوا
” کیا وہ معاف کرے گی غصے میں میں نے پتا نہیں کیا کیا بول دیا وہ مجھ سے بہت ناراض ہو گی بٹ میں اپنی روشانے کو منا لوں گا ” اس نے مسکرا کے کہا اور روم سے باہر آیا تو ماما بابا اور وانی کہیں جانے کو تیار تھے
” ماما بابا وانی کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ”
” ہم روشانے بھابی کی طرف جا رہے ہیں ”
” میں بھی چلتا ہوں ” وجدان ایک دم تیار ہوا
” کوئی ضرورت نہیں ہے ہم۔جا رہے ہیں اب تم روشی سے ےب ملنا جب وہ اس گھر میں آجائے گی ”
” پر ماما وہ ناراض۔۔۔۔۔”
” تو ہم جا تو رہے ہیں منانے تمہارا کیا کام ” ماما مسکرائیں
” پر وہ آپ سے نہیں مجھ سے ناراض ہے”
” تو ہم بول تو رہے ہیں جب وہ یہاں آئے گی تب منانا اسے”
” پر ماما۔۔۔۔” وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا تو وہ دونوں ہنس دیں
” اوکے جائیں ” اتنے میں بابا بھی روم سے نکلے ” چلیں ” انہوں نے کہا اور وہ چلے گئے۔
*********
روشانے کے گھر جا کے وہ لوگ روشانے سے ملے اور روشانے کو رخصتی پہ منا کے ہی اٹھے ولید کے ولیمے پہ روشانے کی رخصتی قرار پائی۔
روشانے حیران تھی سب اتنی جلدی جلدی گیا تھا کہ اس کی شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہوگئی تھی پر کہیں اس کا دل اندر سے بہت خوش بھی تھا اب سب کچھ سہی ہونے جا رہا تھا وہ مسکرائی
” وجدان حیدر تم اپنی اب خیر مناؤ اتنی بھی آسانی سے معاف کرنے والی نہیں میں ” اور سوچ کے مسکرا دی۔
*************

بینا خان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بینا خان کے ناول محبت سے محبت ہے سے اقتباس