اردو غزلیاتذوالفقار عادلشعر و شاعری

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا

پرندوں کو کسی بھی شکل میں آنا پڑے گا

خود اپنے سامنے آتے ہوئے حیران ہیں ہم

ہمیں اب اس گلی سے گھوم کر جانا پڑے گا

اسے یہ گھر سمجھنے لگ گئے ہیں رفتہ رفتہ

پرندوں سے قفس آمادہ کروانا پڑے گا

اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے

ہمیں کمرے کو خالی چھوڑ کر جانا پڑے گا

میں پچھلے بنچ پر سہما ڈرا بیٹھا ہوا ہوں

سمجھ میں کیا نہیں آیا یہ سمجھانا پڑے گا

یہاں دامن پہ نقشہ بن گیا ہے آنسوؤں سے

کسی کی جستجو میں دور تک جانا پڑے گا

تعارف کے لئے چہرہ کہاں سے لائیں گے ہم

اگر چہرہ بھی ہو تو نام بتلانا پڑے گا

کہیں صندوق ہی تابوت بن جائے نہ اک دن

حفاظت سے رکھی چیزوں کو پھیلانا پڑے گا

خدا حافظ بلند آواز میں کہنا پڑے گا

پھر اس آواز سے آگے نکل جانا پڑے گا

جہاں پیشین گوئی ختم ہو جائے گی آخر

ابھی اس راہ میں اک اور ویرانہ پڑے گا

یہ جنگل باغ ہے عادلؔ یہ دلدل آب جو ہے

کہیں کچھ ہے جسے ترتیب میں لانا پڑے گا

ذوالفقار عادل

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button