اردو غزلیاتتیمور حسن تیمورشعر و شاعری

ہم دنیا سے جب تنگ آیا کرتے ہیں

تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل

ہم دنیا سے جب تنگ آیا کرتے ہیں
اپنے ساتھ اِک شام منایا کرتے ہیں
سورج کے اس جانب بسنے والے لوگ
اکثر ہم کو پاس بلایا کرتے ہیں
یونہی خود سے روٹھا کرتے ہیں پہلے
دیر تلک پھر خود کو منا یا کرتے ہیں
چپ رہتے ہیں اس کے سامنے جا کر ہم
یوں اس کو کچھ یاد دلایا کرتے ہیں
نیندوں کے ویران جزیرے پر ہر شب
خوابوں کا اِک شہر بسا یا کرتے ہیں
ان خوابوں کی قیمت ہم سے پوچھ کہ ہم
اِن کے سہارے عمر بِتایا کرتے ہیں
اب تو کوئی بھی دور نہیں تو پھر تیمورؔ
ہم خط کِس کے نام لکھایا کرتے ہیں

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button