- Advertisement -

وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا

میر تقی میر کی ایک غزل

وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا
اس دل نے کس بلا میں ہمیں مبتلا کیا

چھاتی کبھو نہ ٹھنڈی کی لگ کر گلے سے آہ
دل اس سے دور سینے میں اکثر جلا کیا

کس وقت شرح حال سے فرصت ہمیں ہوئی
کس دن نیا نہ قاصد ادھر سے چلا کیا

ہم تو گمان دوستی رکھتے تھے پر یہ دل
دشمن عجب طرح کا بغل میں پلا کیا

کیا لطف ہے جیے جو برے حال کوئی میر
جینے سے تونے ہاتھ اٹھایا بھلا کیا

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل