تہذیب کا جنازہ اور ڈیجیٹل بدتہذیبی
مصنف : پیر انتظار حسین مصور
کسی دور میں کہا جاتا تھا کہ "زبان” انسان کی پہچان ہوتی ہے اور "قلم” اس کی تربیت کا آئینہ دار۔ لیکن آج جب ہم سوشل میڈیا کے بے ہنگم شور میں گردن تک دھنس چکے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ترقی کی دوڑ میں اخلاقیات کا لبادہ کہیں راستے میں ہی اتار دیا ہے۔ اب اختلافِ رائے دلیل سے نہیں بلکہ گالی سے کیا جاتا ہے، اور بحث کا مقصد سچ کی تلاش نہیں بلکہ دوسرے کو نیچا دکھانا بن چکا ہے۔ یہ ڈیجیٹل بدتہذیبی ہماری نسلِ نو کے ذہنوں میں وہ زہر گھول رہی ہے جس کا تریاق شاید آنے والی کئی دہائیوں تک ممکن نہ ہو۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس "موبائل کلچر” نے ہمارے درمیان موجود بڑوں کا احترام اور لفظوں کی حرمت کو پامال کر دیا ہے۔ جب سیاستدانوں سے لے کر عام شہری تک، ہر کوئی سکرین کے پیچھے چھپ کر دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کو بہادری سمجھنے لگے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ فکری بانجھ پن کا شکار ہو چکا ہے۔ ہم ایک ایسی قوم بنتے جا رہے ہیں جو دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں تو ماہر ہے، لیکن اپنی اصلاح کے نام پر ہمیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں "وائرل” ہونے کی ہوس نے ہمیں اتنا اندھا کر دیا ہے کہ ہم یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ہماری کہی ہوئی ایک بات کسی کی زندگی برباد کر سکتی ہے یا کسی گھرانے کی عزت خاک میں ملا سکتی ہے۔
ریاست اور سیاست کی بات کی جائے تو وہاں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ اداروں کی تضحیک اور شخصیات کی پوجا نے ہمیں اس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں حق اور باطل کی تمیز ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ سیاسی وابستگیاں اب نظریات سے زیادہ جذبات اور نفرتوں پر مبنی ہیں۔ جب ایک سیاسی کارکن اپنے مخالف کو محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر غدار یا کافر قرار دیتا ہے، تو وہ دراصل اس معاشرتی ڈھانچے پر کلہاڑی چلا رہا ہوتا ہے جس پر ہم سب کھڑے ہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی چہرے بدلتے رہتے ہیں، لیکن جو چیز باقی رہتی ہے وہ ریاست کا وقار اور ہماری اخلاقی اقدار ہیں۔
اس بدتہذیبی کا ایک بڑا سبب وہ نام نہاد "دانشور” بھی ہیں جو ٹی وی سکرینوں اور یوٹیوب تھمب نیلز پر بیٹھ کر اشتعال انگیزی پھیلاتے ہیں۔ عوام ان کی باتوں کو حرفِ آخر سمجھ کر آپس میں دست و گریبان ہو جاتے ہیں۔ قلم کی حرمت اب ریٹنگ اور ویوز کی نذر ہو چکی ہے۔ جو لکھاری کبھی معاشرے کی سمت متعین کرتے تھے، آج ان میں سے اکثر مصلحتوں کا شکار ہیں یا پھر گروہی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک سچے قلم کار کی ذمہ داری تھی کہ وہ آگ بجھاتا، لیکن یہاں تو لفظوں کے ذریعے آگ لگانے کا کاروبار عروج پر ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں شرحِ خواندگی پہلے ہی کم ہے، وہاں ڈیجیٹل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ایک ایٹم بم سے کم نہیں۔ ہم نے نوجوانوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون تو تھما دیے لیکن انہیں یہ نہیں سکھایا کہ معلومات اور پروپیگنڈے میں فرق کیسے کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری گلیوں سے لے کر ڈرائنگ رومز تک، ہر جگہ عدم برداشت کا راج ہے۔ ہم ایک ایسی جاہل بھیڑ کے طور پر ابھر رہے ہیں جس کے پاس ٹیکنالوجی تو جدید ترین ہے لیکن ذہنی پستی پتھر کے زمانے کی ہے۔
انہی مخدوش حالات میں جب ہم شعور اور آگہی کے جزیروں کی تلاش کرتے ہیں، تو "سلام اردو” جیسی ویب سائٹس ایک غنیمت نظر آتی ہیں۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو علم و ادب سے بھرپور ہے اور ہمیں اپنے ان علمی و ادبی دوستوں سے ہمیشہ رابطے میں رکھتا ہے جو تحریر کے معیار اور لفظوں کی آبرو پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے۔ ایسے ہی علمی حلقوں کی بدولت آج بھی سچ کہنے اور سننے والوں کی امیدیں وابستہ ہیں، ورنہ ڈیجیٹل دنیا کے اس طوفان میں تو ہر کوئی بہہ جانے کو تیار بیٹھا ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے قلم اور اپنی زبان کو نفرت پھیلانے کے بجائے شعور بانٹنے کے لیے استعمال کریں۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل قوانین کو صرف سیاسی مقاصد کے لیے نہیں بلکہ اخلاقی نظم و ضبط کے قیام کے لیے بھی حرکت میں لائے۔
یاد رکھیے، لفظ جب ایک بار قرطاس پر بکھر جائیں یا ڈیجیٹل فضا میں چلے جائیں، تو وہ آپ کی دائمی پہچان بن جاتے ہیں۔ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ آنے والی نسلوں کے لیے ایک "تعمیر گر” کی مثال چھوڑ کر جاتے ہیں یا ایک ایسے "تخریب کار” کی جس نے اپنی ہی تہذیب کے جنازے میں حصہ لیا۔ قلم کی حرمت اور وطن کی عزت کا تحفظ ہی ایک مخلص لکھاری کا اصل سرمایہ ہے۔
پیر انتظار حسین مصور







