آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا جائے

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

یہ کسی طور اَہانت نہیں سمجھا جائے
لَمس کو کارِ ملامت نہیں سمجھا جائے

اب مری آنکھ ترے خواب سے کتراتی ہے
اب مجھے اہلِ امانت نہیں سمجھا جائے

تیرے ہوتے ہوئے ہم سانس جو لے لیتے ہیں
اس کو درپردہ بغاوت نہیں سمجھا جائے

یہ تو اس حسن کی مرضی ہے کہ جس جس پہ کھُلے
اس کو آنکھوں کی مہارت نہیں سمجھا جائے

جب بھی چاہیں ترے ہجراں سے کنارہ کر لیں
سن، اِسے جوشِ خطابت نہیں سمجھا جائے

وہ تو گھونگھٹ میں کسی اور ہی دکھ سے چپ ہے
دیکھئے چپ کو اجازت نہیں سمجھا جائے

مجھ سے کائر کبھی اظہار نہیں کر سکتے
یہ طبیعت كی متانت نہیں سمجھا جائے

عجز کے اپنے تکبر میں ملوَّث سجدے
لاکھ ہو جائیں، عبادت نہیں سمجھا جائے

بے خودی ضد پہ اڑی تھی سو بغلگیر ہوئے
اس کو ہرگز بھی خیانت نہیں سمجھا جائے

ہم جو حیران ہیں منصف کی طرفداری پر
اس کو توہینِ عدالت نہیں سمجھا جائے

بعض اوقات یہ مرنے سے بچا لیتی ہے
شعر گوئی کو حماقت نہیں سمجھا جائے

دل کے دالان میں پڑتی ہوئی سانسوں کی دھمال
اس کو جینے کی بشارت نہیں سمجھا جائے

دشت کے مردِ مجاہد کا یہ فتویٰ سن لیں
ہجر کو کارِ خجالت نہیں سمجھا جائے

عشق دل کھول کے ، آتا ہے سمجھ میں اظہر
اَز روئے فہم و فراست، نہیں سمجھا جائے

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button