اردو غزلیاتشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

کیا دن تھے کہ رہتا نہ تھا

شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل

کیا دن تھے کہ رہتا نہ تھا کچھ اُس کے سِوا یاد
خاک ایسی اڑی دل میں کہ وہ بھی نہ رہا یاد

اے یار ، زمین اور زماں تیرے سبب تھے
اب دشت و چمن یاد ہیں نے صُبْح و مَسا یاد

پھر دل میں وہی ٹیس ، وہی چیخ لبوں پر
جب زخم نیا پایا تجھے میں نے کِیا یاد

دن رات خد و خال کو دہراتا رہا ہُوں
اب جا کے مری آنکھ کو وہ شخص ہُوا یاد

وہ کون سی شے ہے جو گُھلاتی ہے بدن کو
پوچھا جو کسی نے تو اُسے میں نے کہا "یاد”

تُو بُھول گیا اور ترے ظلم بھی بُھولے
بس آخری انکار ترا میں نے رکھا یاد

وہ جا بھی چکا، آنے کا پیماں بھی نہیں ہے
کیوں پیچھے پڑی رہتی ہے اب دور بھی جا، یاد

شہزاد نیّرؔ

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button