کیا دن تھے کہ رہتا نہ تھا کچھ اُس کے سِوا یاد
خاک ایسی اڑی دل میں کہ وہ بھی نہ رہا یاد
اے یار ، زمین اور زماں تیرے سبب تھے
اب دشت و چمن یاد ہیں نے صُبْح و مَسا یاد
پھر دل میں وہی ٹیس ، وہی چیخ لبوں پر
جب زخم نیا پایا تجھے میں نے کِیا یاد
دن رات خد و خال کو دہراتا رہا ہُوں
اب جا کے مری آنکھ کو وہ شخص ہُوا یاد
وہ کون سی شے ہے جو گُھلاتی ہے بدن کو
پوچھا جو کسی نے تو اُسے میں نے کہا "یاد”
تُو بُھول گیا اور ترے ظلم بھی بُھولے
بس آخری انکار ترا میں نے رکھا یاد
وہ جا بھی چکا، آنے کا پیماں بھی نہیں ہے
کیوں پیچھے پڑی رہتی ہے اب دور بھی جا، یاد
شہزاد نیّرؔ








