اردو غزلیاتشعر و شاعریقابل اجمیری

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

قابل اجمیری کی اردو غزل

وہ کب آئیں خدا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہوئے ہیں ہم تو دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

کہاں تک مجھ سے ہمدردی کہاں تک میری غم خواری

ہزاروں غم ہیں انجانے ستارو تم تو سو جاؤ

گزر جائے گی غم کی رات امیدو تو جاگ اٹھو

سنبھل جائیں گے دیوانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں روداد ہستی رات بھر میں ختم کرنی ہے

نہ چھیڑو اور افسانے ستارو تم تو سو جاؤ

ہمارے دیدۂ بے خواب کو تسکین کیا دو گے

ہمیں لوٹا ہے دنیا نے ستارو تم تو سو جاؤ

اسے قابلؔ کی چشم نم سے دیرینہ تعلق ہے

شب غم تم کو کیا جانے ستارو تم تو سو جاؤ

قابل اجمیری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button