غیر قانونی مہاجرت: خوابوں کی قیمت جان کے ساتھ
عمان کے ساحل کے قریب پاکستانیوں سے بھری کشتی کے حادثے نے ایک ایسا المیہ منظر عام پر لا دیا ہے جو ہمارے معاشرے کے لیے دہائیوں پرانے زخم کی یاد دہانی ہے۔ 19 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے اور صرف ایک ہی زندہ بچا ۔حمید اللہ خان۔ یہ اعداد و شمار محض اعداد نہیں؛ ہر جان ایک خاندان کی ٹوٹی ہوئی امید، ایک ماں کے آنسو، اور ایک بیٹے، بھائی یا دوست کی چھینی ہوئی زندگی کی کہانی ہے۔ ان کی زندگی کے خواب، امنگیں اور محنت کے چھوٹے چھوٹے لمحے اس حادثے کے پانی میں بہہ گئے۔
گوادار کے ساحل سے روانہ ہونے والی یہ کشتی غیر قانونی طور پر عمان پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر طوفانی ہوا اور گیس سلنڈر کے دھماکے نے ان کے خواب پل بھر میں مٹا دیے۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کے حالات کس قدر پریشان کن ہیں۔ نوجوان، جو اپنے مستقبل کو سنوارنے، تعلیم حاصل کرنے، اور اپنے خاندانوں کے لیے بہتر زندگی کے خواب دیکھتے ہیں، وہ مجبوراً ایسے خطرناک راستوں پر نکلتے ہیں جہاں موت، موت کے قریب لمحے اور لاپتہ ہونے کا خوف ان کا ہمسفر بن جاتا ہے۔
ہزاروں نوجوان ہر سال بہتر زندگی، روزگار اور خوشحالی کی تلاش میں اپنے وطن کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے مستقبل کی بنیاد ہیں، اور ہم روزانہ انہیں خطرناک پانیوں، سرحدوں کے پار، یا جہنم کی سرحد پر کھویا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ غربت، محدود تعلیمی مواقع، معاشرتی دباؤ، اور روزگار کی کمی وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کو اپنی زندگی کے سب سے قیمتی لمحے خطرناک اور غیر قانونی سفر میں قربان کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہر غیر قانونی سفر ایک خاندان کو گہرے غم میں دھکیل دیتا ہے، ہر حادثہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے پر ناقابلِ فراموش داغ چھوڑتا ہے، اور ہر آنکھ جو یہ منظر دیکھتی ہے، ایک لمحے کے لیے اپنی زندگی پر سوال اٹھاتی ہے۔
حکومت اور معاشرتی اداروں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ صرف باتیں نہ کریں بلکہ عملی اقدامات اٹھائیں۔ نوجوانوں کے لیے مستحکم اور محفوظ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، تعلیم اور تربیتی پروگرام کو فروغ دیا جائے، اور خطرناک مہاجرت کے نقصانات کے بارے میں شعور بیدار کرنے والی مہمات چلائی جائیں۔ نوجوانوں کو یہ باور کرایا جائے کہ وطن میں رہ کر محنت، صبر، اور حوصلے کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر بھی لے جا سکتے ہیں۔
یہ المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواب کی قیمت کبھی کبھی جان کے بدلے ادا کی جاتی ہے۔ غیر قانونی مہاجرت، خواہ کتنی بھی پر امید لگے، حقیقت میں موت، غربت اور خاندانوں کے دکھ کی راہ ہے۔ اگر حالات بہتر نہ ہوئے، تو ہر سال یہی حادثات، یہی دردناک کہانیاں اور یہی خالی وطن کا المیہ دہرایا جائے گا۔ ہمارے نوجوان، جو ہمارے ملک کی سب سے بڑی دولت ہیں، اپنے خوابوں اور حوصلے کے بدلے موت کے قریب جانے پر مجبور ہوں گے۔
ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نوجوانوں کو یہ سمجھائیں کہ بہتر زندگی کے لیے وطن سے بھاگنا نہیں، بلکہ وطن میں رہ کر محنت کرنا، حالات بدلنا اور اپنے ملک کو بہتر بنانے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا اصل کامیابی ہے۔ ہر انسان کی زندگی، ہر خاندان کا سکون، اور ہر خواب کی تکمیل اسی میں چھپی ہے۔ ورنہ ہر سال یہی المیے، یہی آنسو، اور یہی خالی وطن کا درد پاکستان کے ہر کونے میں محسوس ہوتا رہے گا۔
یوسف صدیقی







