آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد عمیر سالک
عجب رنجشوں کی عجب ابتدا ہے
محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل
عجب رنجشوں کی عجب ابتدا ہے
وہ ہر بات پر مجھ سے شکوہ کناں ہے
ذرا سا جھکوں تو منا لوں میں اُس کو
مگر اِس میں حائل مری ہی انا ہے
محبت نے کیسی یہ سازش رچی ہے
بچھڑ کر بھی دل میں وہ باقی رہا ہے
میں پتھر تھا پھر بھی پگھل سا گیا ہوں
وہ شیشہ ہے پھر بھی سلامت کھڑا ہے
میں نازاں ہوں اپنی ہی قسمت پہ سالک
کہ اس سے میں بچھڑا تو اچھا ہوا ہے
محمد عمیر سالک







