آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد عمیر سالک

عجب رنجشوں کی عجب ابتدا ہے

محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل

عجب رنجشوں کی عجب ابتدا ہے
وہ ہر بات پر مجھ سے شکوہ کناں ہے

ذرا سا جھکوں تو منا لوں میں اُس کو
مگر اِس میں حائل مری ہی انا ہے

محبت نے کیسی یہ سازش رچی ہے
بچھڑ کر بھی دل میں وہ باقی رہا ہے

میں پتھر تھا پھر بھی پگھل سا گیا ہوں
وہ شیشہ ہے پھر بھی سلامت کھڑا ہے

میں نازاں ہوں اپنی ہی قسمت پہ سالک
کہ اس سے میں بچھڑا تو اچھا ہوا ہے

محمد عمیر سالک

post bar salamurdu

محمد عمیر سالک

نام: محمد عمیر - تخلص: سالِکؔ - تاریخِ پیدائش: 16 فروری 2005ء - شہر: ہری پور، خیبرپختونخوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button