خوش مزاجی اور حضور ﷺ
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو !
کسی کو کسی بات پر ہنسانا کسی محفل میں موجود لوگوں کو کسی بات پر مسکرانے پر مجبور کردینا اور ماحول کو خوش مزاج بنادینا شرعیت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے شریعت کا پاس رکھتے ہوئے ایسا کرنا ہمارے آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے ہمیں سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوش مزاجی کے واقعات اکثر سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں اسی طرح صحابہ کرام علیہم الرضوان کے واقعات بھی تاریخ اسلام میں جگہ جگہ ہمیں پڑھنے کو ملتے ہیں جیسے ایک بہت ہی بڑے اور معتبر صحابی حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ جو اپنے خوش مزاج انداز کی وجہ سے مشہور تھے ایک دفعہ وہ مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے جہاں ایک محفل جمی ہوئی تھی سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف فرما تھے چند صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی ساتھ بیٹھے تھے ماحول محبت ، ادب اور سکون سے بھرا ہوا تھا حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو چہرے پر مسکراہٹ تھی عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج بازار میں ایک چیز دیکھی دل چاہا آپ ﷺ کے لیئے لے لوں مگر جیب خالی تھی یہ سن کر مجلس میں بیٹھے صحابہ مسکرانے لگے سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا کیا ؟ اے نعیمان رضیہ اللہ عنہ انہوں نے عرض کیا کہ میں وہ چیز لیکر آیا ہوں لیکن دوکاندار سے کہدیا کہ قیمت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیں گے یہ سن کر پوری مجلس میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر مسکرانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی تبسم فرمایا وہ تبسم جس سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور فرمایا کہ اے نعیمان رضی اللہ عنہ تم بھی عجیب ہو اتنے میں دوکاندار بھی آ پہنچا اور عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ ﷺ سامان تو دیا مگر اب مجھے قیمت چاہئے یہ سن کر حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہیں کیا تھا نا کہ دنیا کے سب سے سچے انسان کے پاس چلے جائو تمہارا حق تمہیں ضرور ملے گا ضائع نہیں ہوگا مجلس میں پھر ہنسی کا ماحول بن گیا سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے قیمت ادا کی اور تبسم فرماتے ہوئے حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے نعیمان تم ہمارے دل کو خوش کر دیتے ہو حضرت نعیمان بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری جان میرا مال میری ہنسی سب آپ ﷺ پر قربان یہ سن کر محفل کا ماحول پھر سے بدل گیا ہنسی کے ساتھ محبت اور عقیدت کی خوشبو پھیل گئی صحابہ کرام علیہم الرضوان ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے کہ کیسا پیارا دین ہے، جہاں محبت بھی ہے، ادب بھی ہے، خوش مزاجی بھی ہے، اور دل جوئی بھی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ سختی والے نہیں تھے، بلکہ اپنے صحابہ سے محبت کرتے، ان کی خوش طبعی برداشت فرماتے، اور خود بھی مسکرا دیتے تھے۔ اب ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہوکر یہ تصور کیجیئے کہ وہ مجلسیں کیسی ہوں گی جہاں رسول ﷺ تشریف فرما ہوں صحابہ کرام علیہم الرضوان موجود ہوں ہنسی اور خوشی مزاجی بھی ادب کے ساتھ ہو بس یہ ہی وہ محفلیں تھیں جنہوں نے دنیا بدل دی مسکراہٹ اور تبسم تھکے ہارے اور پریشان حال انسان کے لیے بام کی طرح کام کرتی ہے ۔اس لیے نبی کریم ﷺ نے مسکراہٹ کو صدقہ قرار دیا۔خوش مزاجی اور خندہ پیشانی مومن کی خصلت میں شامل ہیں۔رسول کریمﷺ اپنے اہل خانہ، امہات المومنین رضی اللہ عنہما اور صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ خوش مزاجی سے پیش آتے۔ بقول امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کے
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سرکار مدینہ حضور ﷺ جب سفر میں ہوتے تو اپنے ساتھ موجود سارے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے رابطے میں رہتے اور پورے سفر میں ان سے حال احوال لیتے رہتے اسی طرح ایک وفادار ساتھی اور صحابی حضرت جابر رضی اللہ عنہ جو اپنے بوڑھے اونٹ پر سوار تھے تو آپ ﷺان کے پاس گئے اور خوش مزاجی فرماتے ہوئے فرمایا کہ اے جابر کیا تم مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کرنا چاہو گے ؟ آپ ﷺ نے یہ بات انتہائی سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے فرمائی جبکہ لوگ سمجھ گئے تھے کہ آپ ﷺ مزاح فرما رہے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا لیکن شرط یہ ہے کہ میں یہ اونٹ مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ کے حوالے کروں گا تو اس کی قیمت کیا لو گے ؟ عرض کیا حضور آپ ﷺ ہی فرمایئے تو مزاح میں فرمایا کہ ایک درہم ٹھیک رہے گا ؟ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا مجھے لوٹنا چاہتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ چلو دو درہم صحیح نہیں ہرگز نہیں پھر آپ ﷺ قیمت بڑھاتے گئے تین چار پانچ اور یہاں تک کہ بات چالیس درہم تک پہنچ گئی اس قیمت پر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ راضی ہو گئے۔ پھر محمد رسول اللہ ﷺ نے کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں کیں اور قافلے میں کسی اور شخص سے ملاقات کے لیے چلے گئے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اپنی زوجہ سے سارا ماجرا سنایا کہ سفر سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی خوش گوار گفتگو ہوئی لیکن ان کی زوجہ نے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی بات کو مزاح میں نہ لیں اور اونٹ تک پہنچائیں لہذہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنا اونٹ لیکر حضورﷺ کے گھر پہنچ گئے آپ ﷺ نے دیکھا تو مسکرائے اور حکم دیا کہ جابر کو چالیس درہم ادا کر دیئے جائیں جبکہ وہ اونٹ بھی اپنی طرف سے تحفہ کے طور پر آپ ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو دے دیا وہ اونٹ اس کے بعد کئی سالوں تک حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا وہ جب بھی اونٹ کو دیکھتے تو آپ رضی اللہ عنہ کو وہ مبارک سفر ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ اور آپ ﷺ کی خوش مزاح گفتگو ہمیشہ یاد آتی اور آپ رضی اللہ عنہ سرکار مدینہ حضور ﷺ کی یاد میں محو ہو جاتے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں سرکار مدینہ
ﷺ کی خوش مزاجی اور نرم مزاج کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اس طرح فرمایا کہ
فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ۔
ترجمعہ کنزالایمان ۔
تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب! تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہو جاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو بیشک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں۔
( سورہ العمران 159 )
خوش مزاجی یا کسی کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کی شریعت میں ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ تو سرکار مدینہ ﷺ کی سنت مبارکہ ہےفرق یہ ہے کہ ہمارے آج کے معاشرے میں خوش مزاجی دوسروں کا مذاق اڑانا اور کسی کی تذلیل کرنا ہے جبکہ حضور ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا کہ میں بھی مذاق کرتا ہوں لیکن میرے مذاق میں جھوٹ نہیں ہوتا ہمیشہ سچ ہوگا آپ ﷺ کبھی کسی کی تذلیل نہیں فرماتے اور نہ ہی کسی کی دل آزاری ہوتی آپ ﷺ ہمیشہ صحابہ کرام علیہم الرضوان ، ازواج مطہرات اور دیگر ساتھیوں سے ہلکے پھلکے مزاح کا رویہ رکھتے تھے کبھی بھی آپ ﷺ کو کسی نے قہقہہ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ آپ ﷺ ہمیشہ تبسم فرمایا کرتے اور آپ ﷺ کی مسکراہٹ سے ماحول میں نور پھیل جاتا جبکہ آج کے معاشرے میں مذاق کا مطلب کسی کی تذلیل کرنا اور کسی کو مذاق کا نشانہ بناکر اس کی سرعام بیعزتی کرنا ہے جس کی شرعیت میں کہیں بھی کسی بھی طرح اجازت نہیں ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوش مزاجی کا موضوع بڑا طویل ہے لیکن بات کو سمجھانے اور آپ تک سرکار مدینہ حضور ﷺ کی خوش مزاجی کی بہاروں کو پہنچانے کی میں نے مختصر انداز میں کوشش کی ہے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری کوشش کو اپنی رضا کے لیئے اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف برکاتی








