احادیث سے زندگی آسان بنائیں
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو !
اللہ تبارک وتعالیٰ کی کتاب قرآن مجید وہ کتاب ہے جس کے اندر ہمیں صحیح راستوں پر چل کر زندگی گزارنے کے تمام معاملات کی طرف مکمل رہنمائی کی گئی ہے مزید اس کو آسان طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیئے اللہ تعالیٰ کے حبیب کریم ﷺ نے ہمیں احادیث مبارکہ جیسا بیش بہا خزانہ دے دیا جنہیں سمجھنے کے لیئے ہمارے درمیاں مستند اور صحیح العقیدہ عالم دین موجود ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا اور وہ اپنے اس علم کے ذریعے ہمیں ان احادیث کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں بھرپور رہنمائی کرتے ہیں اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آج ایک حدیث کو پڑھنے سمجھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی سعادت حاصل کریں گے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رضا کے لیئے میری اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے اور ہمیں اس حدیث اور ایسی بیشمار احادیث کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ حدیث
احادیث کی کئی کتابوں میں موجود ہے لیکن ہم یہاں ذکر کریں گے صحیح مسلم کی صحیح مسلم میں موجود اس حدیث کے راوی ہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
” دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے ” یعنی دنیا مومنوں کے لیئے قید خانہ کے برابر ہے جبکہ کافروں کے لیئے یہ دنیا جنت کی مانند ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں مذکورہ حدیث میں جن دو باتوں کی طرف میرے آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے وہ بڑی اہم ہیں پہلی بات یہ کہ ہمیں اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے کس مقصد کے لیئے ہمیں رب العزت نے اپنا نائب بناکر اس دنیا میں بھیجا اور ہم اس دنیا میں اپنی زندگی کو کس راستے کی طرف لیکر چل رہے ہیں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کیونکہ اگر ہم ایک اہل ایمان مسلمان کے گھر پر پیدا ہوئے تو ہمیں یہ بات ذہن نشیں رکھنا ہوگی کہ یہ دنیا ہمارے لیئے عیش وعشرت کے ساتھ زندگی گزارنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے لیئے ایک قید خانہ ہے وہ قید خانہ جہاں کوئی قیدی اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کرسکتا اسے ہر حال میں وہاں کے قوانین کی پابندی کرنا ہوتی ہے وہ وہاں آزاد نہیں ہوتا اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے چلنے پھرنے یعنی ہر کام میں اس قید خانے کے قوانین پر عمل کرنا ہوتا ہے بس ہمیں اس دنیا کو ایک قید خانہ سمجھ کر اپنی زندگی گزارنی چاہیئے نا کہ ہم عیش وعشرت کے ساتھ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیئے ہر جائز ناجائز کام میں لگ جائیں اور زندگی کا اصل مقصد ہی بھول جائیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دوسری بات یہ کہ کافروں کے لیئے یہ دنیا کسی جنت سے کم نہیں ہیں کیونکہ یہ وہ بدنصیب اور بدبخت لوگ ہیں جن کا قیامت میں جنت سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا انہیں وہ جنت یہیں اسی دنیا میں دے دی گئی ہے جبکہ بروز محشر ان کا ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کچھ بھی نہیں اس دنیا میں انہیں مال و دولت اور عیش وعشرت کی زندگی دے دی گئی ہے ہمارے یہاں اکثر آپ لوگ دیکھتے ہوں گے کہ کئی غیر مسلم یہودی اور ہندو غریبوں کی مدد کرتے ہوئے اور نیکیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور ہمیں یہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ان نیک کاموں کے سبب اجر و ثواب عطا کرے گا اور واقعی ایسا ہے لیکن انہیں ان نیکیوں کا پھل اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے جبکہ اہل ایمان مسلمانوں کے لیئے رب العزت نے بروز محشر ان کے نیک اعمال کے سبب کئی اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے کیونکہ یہ دنیا مسلمانوں کے لیئے قید خانہ ہے لیکن مذکورہ حدیث میں لفظ مسلمان کی جگہ مومن استعمال ہوا ہے یہاں ہمیں سب سے پہلے مومن کے معنی سمجھنا ہوں گے اصطلاحی لحاظ سے مومن وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر پختہ یقین رکھتا ہو۔ اس کا دل شک اور تردد سے پاک ہو، اور وہ اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کے احکامات کی تصدیق کرے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لیکن ہمارے اس معاشرے میں مجھ سمیت ہر انسان یہ بات بھول چکا ہے اور اپنے نفسانی خواہشات کی خاطر عیش وعشرت کی خاطر اس دنیا کو اپنی جنت سمجھ بیٹھا ہے حضرت مولانا رومی علیہ الرحمہ نے اپنے مخصوص اور خوبصورت انداز سے ان دونوں اشخاص کا فرق واضح کیا ہے جس میں ایک شخص وہ ہے جو اپنی خواہشات کی تکمیل میں مصروف عمل ہوکر عیش وعشرت کی زندگی میں کھو جاتا ہے اور آخرت کو بھول بیٹھتا ہے جبکہ دوسرا شخص وہ ہے جس کی نگاہ ہمیشہ آخرت کی تیاری پر ہوتی ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے مولانا رومی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ دنیا دراصل بوائی کے موسم کی طرح ہے جبکہ آخرت کٹائی کے موسم کی طرح ہے
جو کسان بوائی کے موسم میں مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے صبح سویرے اٹھتا ہے نماز ادا کرتا ہے اور کھیتوں میں جاتا ہے جری بوٹیاں نکالتا ہے پانی دیتا ہے اور محنت کرتا ہے تو پھر کٹائی کے موسم میں بھرپور فصل بھی وہی حاصل کرتا ہے
لیکن جو بوائی کے موسم میں عمدہ لباس پہن کر تکبرانا انداز میں گھومتا پھرتا ہے غفلت میں وقت گزارتا ہے صبح اٹھ نہیں پاتا نماز بھی ادا نہیں کرتا کھیتوں کی دیکھ بھال بھی نہیں کرتا جڑی بوٹیاں صاف نہیں کرتا تو کٹائی کے موسم میں اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا مولانا رومی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ دنیا عمل کا میدان ہے محنت کے موسم کی طرح ہے اور تیاری کا وقت ہے جبکہ آخرت اس کے نتیجے کا دن ہے یعنی فصل کاٹ کر عمدہ پھل کھانے کا اس میں پہلا شخص اہل ایمان مسلمان ہے یعنی وہ مومن ہے جبکہ دوسرا شخص یہودی کافر اور اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے ۔ جو لوگ آج اس دنیا میں اپنی زندگی کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیئے اور اس کے احکامات پر گزارتے ہیں ان کے لیئے یہ دنیا وقتی طور پر قید خانہ ضرور ہے لیکن کل آخرت میں وہ ہی لوگ کامیاب ہوں گے اور جو دنیا میں عیش وعشرت اور غفلت کی زندگی گزارنے میں اپنا وقت گزاریں گے کل آخرت میں حسرت اور ندامت کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا کی حقیقت کو سمجھنے ، نیک اعمال کی کھیتی بونے اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں دنیا کی حقیقت کیا ہے ؟ آخرت کی حقیقت کیا ہے ؟ قرآن مجید فرقان حمید اور بیشمار احادیث مبارکہ میں ہمیں اس کے متعلق بتایا گیا ہے یہاں مسلم شریف کی ایک حدیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس کی روایت کرتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرکار دو عالم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں ایک بکری کا بچہ مردہ حالت میں پڑا ہوا تھا اس کے کان یا تو بہت چھوٹے تھے یا پھر کٹے ہوئے تھے
سرکار مدینہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایک دینار کے عوض اسے یعنی ( بکری کے مردہ بچے ) کو خریدے گا تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم تو کسی چیز کے عوض بھی اسے خریدنے کے لیئے تیار نہیں آنحصرت ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! یہ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ( اپنی تمام لذتوں اور آسائشوں کے ساتھ ) اس مردہ بچے سے کئی زیادہ بے وقعت و کمتر ہے جس طرح اس وقت تم لوگوں کی نظر میں یہ بکری کا مردہ بچہ ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس حدیث مبارکہ میں اس واقعہ کے ذریعے بکری کے ایک مردہ بچے کی مثال دیکر ہمارے آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ دنیا اس قابل نہیں کہ اس کی لذتوں اور عیش وعشرت میں انسان اس قدر ڈوب جائے کہ اس فانی دنیا کی محبت اور رنگینیوں میں گم ہوکر آخرت کے نفع و نقصان کو یکثر فراموش کردے جبکہ انسان کو اس دنیا میں رہکر آخرت کی طلب اور اس کی محبت میں گم رہنا چاہئے جہاں کی زندگی بھی لافانی ہے اور نعمتیں بھی کبھی ختم نہ ہونے والی اس لیئے انسان کے لیئے زندگی گزارنے کا اصل مقصد آخرت کی محبت اور اس کی طلب ہونی چاہئے یہ صرف ایک اہل ایمان مسلمان ہی کرسکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا اس کے لیئے قید خانہ ہے نہ کہ عیش وعشرت کی کوئی جگہ اسی لیئے ہمارے اسلاف اور بزرگان دین کا یہ کہنا ہے کہ جب کوئی انسان دنیا کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو وہ صحیح طور پر اپنے اعمال میں مخلص نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر عمل غرض ، لالچ اور مفاد پرستی کا مکس اپ محسوس ہوتا ہے اب وہ چاہے کوئی دنیادار ہو یا دیندار یعنی اس کا کوئی دنیاوی کام ہو یا مذہبی عمل جبکہ دسرا وہ شخص جو دنیا کو حقیر سمجھتا ہے اپنے لیئے حقیقی معنوں میں قید خانہ سمجھتا ہے اور دنیا کی محبتوں اور لذتوں سے اپنے آپ کو دور رکھا ہوا ہے اس کے ہر ہر عمل میں اخلاص ، پاکیزگی ، آخرت کی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی رضا شامل دکھائی دیتی ہے اب چاہے وہ کسی دنیاوی کام میں ہی کیوں نہ مصروف ہو وہ ہے اصل مومن ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کسی عارف نے کیا خوب کہا کہ جس نے دنیا اور اس کی رنگینیوں کو اس کی لذتوں کو اپنی محبوب شہہ بنالیا دنیا کے تمام مشائخ ، علم دین ، مفتی اور پیروفقیر بھی اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے اور جس نے دنیا کو ٹھوکر مارکر اس کی لذتوں سے اپنے آپ کو دور رکھا اس کو دنیا کے تمام بدکار اور فاسق لوگ بھی کبھی گمراہ نہیں کرسکتے ۔محترم پڑھنے والوں ہمارے یہاں جب بھی دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کا ذکر ہوتا ہے تو ہم بل گیٹس، تھامس ایڈیسن ، ایلون مسک اور البرٹ آئن اسٹائن جیسے لوگوں کا نام لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کی شروعات میں کئی ناکامیوں اور تکلیفوں کو برداشت کیا لیکن ہمت نہیں ہاری اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی دنیا میں وہ مقام دے دیا جسے وہ جنت کا نام دیتے ہیں عیش وعشرت اور مال و دولت سے اتنا نواز دیا کہ یہ لوگ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہوگئے لیکن یہ سب کچھ اسی فانی دنیا تک ہے اور بروز محشر ان کے لیئے سوائے جہنم کے اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا کیونکہ اصل دولت ایمان کی دولت ہے اگر اتنی محنت اور اتنی مشقت وہ ایمان کے ساتھ کرتے تو شاید معاملہ کچھ اور ہوتا لیکن ایسا نہیں کیونکہ مذکورہ حدیث کے مطابق سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دنیا کافروں کے لیئے جنت ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی طرح جب ہم ان لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں جنہوں نے اس دنیا کو حقیر سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہوکر دین کی خاطر اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے آخری نبی ہونے یعنی ختم النبیین ہونے کی حفاظت میں اپنی جان تک دینے میں پیچھے نہیں ہٹے تو لوگ غازی علم الدین شہید ، ممتاز قادری اور حضرت علامہ شیخ الحدیث حافظ خادم حسین رضوی علیہ الرحمہ کا نام لیتے ہوئے نظر آتے ہیں اب یہاں فرق یہ ہے کہ دنیاوی اعتبار سے لوگ ان لوگوں کا بھی ذکر کرتے ہیں لیکن اس دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں سے اپنے آپ کو دور رکھ کر ان لوگوں نے جو کام کیا وہ نہ صرف رہتی قیامت تک ان کا نام جاری و ساری رکھے گا بلکہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ڈھیروں اجرو ثواب یعنی جنت جیسی نعمت سے بھی نوازے گا انشاء اللہ کیونکہ انہوں ایک اہل ایمان مسلمان ہوکر اس دنیا کو اپنے لیئے قید خانہ سمجھا اور مومن ہونے کا ثبوت دیا اسی وجہ سے انہوں اس فانی زندگی میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری اور واپس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کی حدیث میں ہمیں یہ ہی فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملتا ہے کہ یہ فانی دنیا مومن کے لیئے قید خانہ اور کافروں کے لیئے جنت ہے ہمیں اس فانی دنیاوی زندگی کو ایک مومن کی طرح گزارنی ہوگی دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں سے دور رہ کر ایک قید خانہ میں رہنے والے قیدی کی طرح تاکہ کل بروز محشر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لافانی جنت جیسی نعمت مل سکے انشاء اللہ ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فانی دنیا کی زندگی کو دنیا کی لذتوں اور عیش وعشرت سے دور رہ کر صرف اپنے احکامات پر گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایک سچے مومن کی طرح آخرت کی فکر میں آخرت میں رب العزت سے جنت جیسی نعمت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف برکاتی








