عرب دکھائی دیا، نے عجم دکھائی دیا
فقط حسین کا غم دم بہ دم دکھائی دیا
یہ اِتفاق بھی ممکن ہُوا بہ فیضِ حسین
زمینِ کرب و بلا میں حرم دکھائی دیا
ہرایک دیپ وہاں پر ہدایتوں کا امیں
ہرایک شخص خدا کا علم دکھائی دیا
بڑی حَسین کرامت وہاں نظر آئی
فضائے دہر میں لوح و قلم دکھائی دیا
اسی لئے تو اُسے دیکھتا ہے سارا جہاں
وہ جسم صورتِ شاہِ اُمم دکھائی دیا
ملی یزید کو طاقت، مگر پیامِ حسین
قدم قدم پہ خدا کی قسم دکھائی دیا
درخت سایہِ ہستی میں جھک کے سوچتے ہیں
یہ کون بارِ رسالت کا غم دکھائی دیا
لکھا سلامِ عقیدت جو ان کی خدمت میں
نگر نگر مجھے باغِ اِرم دکھائی دیا
اُسے کسی بھی طرح لکھ نہ پاؤں گا میں صمیم
وہاں جو جاہ و جلال و حشم دکھائی دیا
سہیل احمد صمیم








