آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحبوب کاشمیری

رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے

محبوب کشمیری کی اردو غزل

رات بھر سبز مزارات نظر آتے رہے
سیر کرتا رہا ، باغات نظر آتے رہے

خود میں جھانکا تو مجھے گھیرا ہوا تھا سب نے
وسوسے اور سوالات نظر آتے رہے

میں فقط کرسی پہ بیٹھا نظر آتا تھا انہیں
جن کو بس اپنے مفادات نظر آتے رہے

ریل میں بیٹھ کے اندر کی گھٹن کم تو ہوئی
دل کی کھڑکی سے مضافات نظر آتے رہے

میں تو چپ بیٹھا تھا اور ہاتھ مرے بولتے تھے
گونجتے عمل _ مکافات نظر آتے رہے

کھل کے رولینے سے شفاف ہوا میرا دماغ
کچھ بھی سوچا تو خیالات نظر آتے رہے

محبوب کاشمیری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button