آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

وہ بے چراغ دریچوں میں آن تھامے رہا
سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا

فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں
زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا

حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا

وہ جانتا تھا کہ بھائی ہیں اس کے قبضہ گیر
وراثتوں میں شکستہ مکان تھامے رہا

لڑائی بھائیوں کے بیچ میں عروج پہ تھی
کلامِ پاک کوئی درمیان تھامے رہا

عروج و پستی و ناکامیوں سے گزرا ہوں
تمام عمر تعلق گٹھان تھامے رہا

ہمیں نماز کی فرصت کہاں ملی ہے کبھی
تھکا نہیں ہے مؤذن اذان تھامے رہا

خطا تھی ماںؔ کی بھگتنا پڑا نتیجہ ہمیں
مزہ لگا ہے تو انسان دھان تھامے رہا

مفاد ہم کو تھا حسرتؔ عزیز، چھوڑ آئے
رہا جو گاؤں سو پیچھے کسان تھامے رہا

رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۰، ستمبر، ۲۰۲۶

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button