- Advertisement -

مار بھی آسان ہے دشنام سہل

میر تقی میر کی ایک غزل

مار بھی آسان ہے دشنام سہل
یار اگر ہے اہل تو ہے کام سہل

جوں نگیں میں کی جگرکاوی بہت
کیا نکلتا ہے کسو کا نام سہل

جان دی یاروں نے تب آنکھیں لگیں
کن نے پایا آہ یاں آرام سہل

مدعی ہو چشم شوخ یار کا
کیا نگاہوں میں ہوا بادام سہل

تم نے دیکھا ہو گا پکپن میر کا
ہم کو تو آیا نظر وہ خام سہل

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل