جاوید اقبال افگار جدید عہد کے ‘خوشحال خٹک’ اور سفیرِ ادب
اپنی قوم پر فخر کرنا اور اس کے دکھ درد کو اپنے سینے میں محسوس کرنا ایک فطری جذبہ ہے، مگر اس درد کی تپش وہی محسوس کر سکتا ہے جو نہ صرف صاحبِ شعور ہو بلکہ ایک حساس اور دھڑکتا ہوا دل بھی رکھتا ہو۔ معاشرے میں ایسے حساس لوگوں کی کمی نہیں جو وقت کے جبر پر کڑھتے ہیں، مگر اکثر کا کردار محض خاموش ہمدردی تک محدود رہتا ہے۔
بقول نوابزادہ نصراللہ خان
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوٸی بلا صرف دعاٶں سے ٹلی ہے
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر اشک بہانے سے نہیں بلکہ عملی جدوجہد اور قربانی سے بدلتی ہے۔ ماضی میں خوشحال خان خٹک نے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق قلم اور تلوار، دونوں سے قوم کے دفاع کا فریضہ انجام دیا۔ آج کے اس علمی دور میں جاوید اقبال افگار صاحب نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا ہے اور اپنی قوم، زبان اور ثقافت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بلا مبالغہ اس عہد کے "خوشحال خٹک”، "فخرِ اٹک” اور "نابغۂ روزگار” شخصیت ہیں۔
جاوید اقبال افگار اپنے تخلص ‘افگار’ کا عملی نمونہ ہیں۔ ان کا دل اپنی زبان اور ثقافت کی زبوں حالی دیکھ کر مجروح (زخمی) رہتا ہے، اور یہی بے چینی انہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ 1971 سے شروع ہونے والا ان کا ادبی سفر آج پانچ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اسی
تپش اور توانائی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
آپ 1956 میں ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے تاریخی گاؤں ‘چھب’ میں پیدا ہوئے۔ والد محترم امیر محمد خان نے ان کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ عملی زندگی میں آپ سرکاری ملازمت سے وابستہ رہے، لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی سرگرمیوں میں ٹھہراؤ آنے کے بجائے مزید تیزی آگئی ہے۔ وہ آج کے عام ریٹائرڈ افراد کے برعکس، علمی و ادبی میدان میں پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور فعال نظر آتے ہیں۔
افگار صاحب کی شخصیت ہمہ جہت ہے۔ وہ بیک وقت شاعر، نثر نگار، محقق، نقاد، ڈرامہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کی علمی پیاس صرف اردو اور پشتو تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے انگریزی زبان میں بھی گراں قدر کام کیا ہے۔
ان کی پشتو تصانیف میں "افگار زڑہ”، "ستا ښکلا او زما مینه” سے لے کر "عالمي حقيقتونه” اور "امیل” جیسی شاہکار کتابیں شامل ہیں۔ حال ہی میں اٹک اور میانوالی کے پشتون لکھاریوں پر ان کی تحقیقی کتاب ایک تاریخی دستاویز ثابت ہوگی۔
اردو میں نعت گوئی اور سیرت نگاری پر ان کی کتب ("مخزنِ نعت”، "مدحتِ گوہرِ یکتا”) ان کی حبِ رسول ﷺ کی گواہ ہیں۔ انگریزی میں گرامر اور لغت پر ان کی کتب طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ریڈیو پاکستان سے بطور میزبان اور ڈیوٹی آفیسر وابستگی نے ان کے لہجے کو ایک خاص وقار عطا کیا، جبکہ کالم نگاری کے ذریعے وہ مسلسل سماجی اصلاح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں خوشحال خان خٹک ایوارڈ، ملاکنڈ ادبی ایوارڈ اور ریڈیو پاکستان ایوارڈ سمیت درجنوں اعزازات سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر اقبال شاکر ان کے بارے میں درست لکھتے ہیں کہ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ ادب کی آبیاری میں گزار کر اردو، پشتو اور انگریزی ادب کو ایک گراں قدر سرمایہ دیا ہے۔ اسی طرح ایاز حسرت انہیں "ایک روشن تاریخ اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا چراغ” قرار دیتے ہیں۔
افگار صاحب کی زندگی حرکت اور عمل سے عبارت ہے۔ کبھی وہ ایبٹ آباد میں علم کی شمع روشن کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی اسلام آباد، پشاور یا کابل کے ادبی ایوانوں میں ان کی آواز گونجتی ہے۔ ان کی یہ تگ و دو کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پشتو زبان و ثقافت کی ترویج کے لیے ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جاوید اقبال افگار جیسے قد آور تخلیق کار نے جتنا کام کیا ہے، ہمارے مقتدرہ علمی اداروں نے انہیں وہ مقام اور پذیرائی نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ اداروں کی یہ بے حسی اور ہماری خاموشی ایک قومی المیہ ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جاوید اقبال افگار صاحب کو صحت اور تندرستی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہیں۔ ان جیسے لوگوں کی موجودگی ہی سے زبان و ادب کا یہ گلشن آباد ہے اور رہے گا۔






