اگر کبھی اسے میری یاد آئے
میری طرح اپنی
ہر انا
دفن کر آئے
میری خاطر جہاں سے لڑ جائے
ڈھونڈے مجھے
دیوانہ وار نظروں سے
محفل میں تو
کبھی تنہائی میں
قریہ قریہ پھرے
صحرا صحرا جائے
پھرے جنگلوں میں
دنیا کے
مارا مارا
رکھے دل پہ ہاتھ
شام و سحر
بھرے سرد آہ
کبھی جو ڈھونڈنے مجھ کو سمندروں کے سفر پہ نکلے
چاند کا عکس جب پانی میں دیکھے
بے اختیار چونکے
کبھی خود سے لپٹتی ہوا سے پتہ میرا وہ پوچھے
نہ ملوں جب اس جہاں میں اسے
مصلے پہ جا کے درد اپنا سنائے
اور ہچکیاں باندھ کر گڑگڑائے
پھر اسے اپنی ہر بے رخی یاد آئے
تڑپ تڑپ کے وہ نام میرا دہرائے
شاید
کبھی ایسا ہو جائے
معظمہ نقوی







