آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعری

بستر میں اک چیونٹی

تنویر انجم کی ایک اردو نظم

جب چیونٹیوں کے باہر نکلنے کا موسم نہ ہو
کہاں سے آجاتی ہے بستر میں ایک چیونٹی
اچانک ہی نظر آتی ہے
ڈبل بیڈ کی وسیع دنیا میں
بھٹکتی ہوئی
تنہائی کی ماری
واضح طور پر گھبراہٹ میں مبتلا
ایک اکیلی چیونٹی
میرے مطالعے میں خلل ڈالنے کے
اپنے جرم سے ناواقف
یہ بیچاری نہیں جانتی
میں نے کس تکلیف سے بچنے کے لیے
کتاب اٹھائی تھی

ایک سمت میں
تیز رفتاری سے
سفر کرتی ہوئی
وہ اچانک اپنی سمت تبدیل کر لیتی ہے
پھر اک اور سمت
یہ بات کھل جاتی ہے
اسے اپنی منزل کا قطعی علم نہیں ہے
نہ ہی سمت کا

میری انگلی ایک خدا کی طرح
اس کا پیچھا کرتی ہے
اور جب چاہے
اس کی گھبراہٹ میں مزید اضافے سے
محظوظ ہونے کے لیے
اس کے آگے پہاڑ بن کر
اسے اپنا رخ بدل کر
اور زیادہ تیز رفتاری سے بھاگنے کے لیے
مجبور کر سکتی ہے

میں جو ایک اذیت پسند ہوں
اس کی کسی غلطی پر
یا اس کے ساتھ کھیل سے بور ہونے کے بعد
اپنی انگلی سے اسے مسل کر نیچے پھینک دوں گی
اور آدھی رات کو
جب نیند مجھ پر مہربان ہونے سے انکار کرے گی
تو یہ انگلی بڑھے گی
اک رخسار تک
اور ٹھہر جائے گی
آدھے رستے میں
اور آدھی رات کا سناٹا کہے گا
کہاں سے آجاتی ہے یہ
بستر میں اک چیونٹی

تنویر انجم

تنویر انجم

تنویر انجم پاکستان میں اردو کی ممتاز شاعرات میں سے ہیں۔ وہ ۱۹۵۶ میں کراچی میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۷۴ سے شاعری کا آغاز کیا۔ انہوں نے نثری نظم کی شاعرہ کی حیثیت سے ایک نمایاں مقام بنایا ہے ۔ اب تک ان کے نثری نظموں کے سات مجموعے شایع ہو چکے ہیں۔ ان دیکھی لہریں (۱۹۸۲)، سفر اور قید میں نظمیں (۱۹۹۲)، طوفانی بارشوں میں رقصاں ستارے (۱۹۹۷)، زندگی میرے پیروں سے لپٹ جاےٗ گی (۲۰۱۰)، نئے نام کی محبت (۲۰۱۳)، حاشیوں میں رنگ (۲۰۱۶) اورفریم سے باہر (۲۰۱۶) ۔ ان کی غزلوں کا ایک مجموعہ سروبرگ آرزو۲۰۰۱ میں شایع ہوا۔ ان کی منتخب نظموں کا ایک مجموعہ Fireworks on a Windowpane انگریزی تراجم کے ساتھ ۲۰۱۴ میں منظر عام پر آیا۔ ۲۰۲۰ میں ان کے سات مجموعوں سے نظموں کا ایک انتخاب "نئی زبان کے حروف" کے نام سے شائع ہوا جس کا انڈین ایڈیشن ۲۰۲۳ میں شائع ہوا۔ ان کی نظموں کے تراجم انگریزی اور دنیا کی دیگر زبانوں میں شائع ہوتے رہے ہیں اور اینتھولوجیز میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ عالمی ادب کے انگریزی سے اردو میں تراجم بھی کرتی رہتی ہیں اور تنقیدی مضامین بھی لکھتی ہیں۔ ان کے تراجم میں بہت سی نظمیں اور افسانے، ایتل عدنان کا لبنانی ناول ست میری روز، دس لاکھ پرندے کے نام سے، اور اسٹینلے وولپرٹ کی قائد اعظم کی سوانح عمری جناح آف پاکستان بھی شامل ہیں۔ خواتین کی عالمی شاعری کے تراجم پر مشتمل ان کی کتاب زیرِطبع ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ بھی زیراشاعت ہے۔ تنویر انجم نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اورتدریس سے وابستہ ہوئیں۔ ۱۹۸۵ سے ۱۹۹۱ کا زمانہ انہوں نے امریکہ میں اوکلاہوما اسٹیٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ٹیکساس آسٹن میں گزارا اور وہاں سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کرنے کے علاوہ وہاں تدریسی فرائض بھی انجام دیے۔ امریکی ادارے امریکن انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کی جانب سے ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۶ میں انہیں کئی امریکی یونیورسٹیوں میں لیکچرز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ انہیں ۲۰۰۰ میں حکومت پاکستان کی جانب سے اعزاز فضیلت اور ۲۰۲۲ میں ان کی شاعری کی کتاب "نئی زبان کے حروف" کو انفاق فاونڈیشن اور پاکستان ادب فیسٹیول کی جانب سے سال کی بہترین کتاب کا ایوارڈ دیا گیا۔ وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا و طالبات کو انگریزی ادب پڑھاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button