- Advertisement -

شام کی ڈھلتی ہوئی پرچھائیوں کے تذکرے

ایک اردو غزل از ناصر ملک

شام کی ڈھلتی ہوئی پرچھائیوں کے تذکرے
کُو بہ کُو پھیلے مِری رُسوائیوں کے تذکرے

بھولتا ہی جا رہا ہوں میں کہانی کی طرح
وہ فریبِ آرزو ، رعنائیوں کے تذکرے

زندگی میں بڑھ گئی ہیں محفلوں کی رونقیں
دل پہ کندہ ہیں مگر تنہائیوں کے تذکرے

عاشقو! پھر سوچ لو ، اِن راستوں میں آج بھی
گونجتے ہیں چارسُو ہرجائیوں کے تذکرے

جو کبھی بارِ تعلق سے گریزاں تھی ، وہی
سن رہی ہے غور سے شہنائیوں کے تذکرے

ساٹھ برسوں بعد بھی بوڑھی زبانوں پر ملے
حرص کے مارے ہوئے بلوائیوں کے تذکرے

بیچتے ہیں اس عوامی دور کے سب رہ نُما
عرضیوں کی قبر پہ شنوائیوں کے تذکرے

بے سبب ہے آج پھر ناصر تمہارا روٹھنا
بے ارادہ چھڑ گئے سودائیوں کے تذکرے

 

ناصر ملک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ناصر ملک