کئی اسرار ہوتے ہیں وفا کی راج دھانی میں
کئی کردار ہوتے ہیں محبت کی کہانی میں
وہ اک جذبہ جو صادق ہے بڑی تاثیر رکھتا ہے
وہ اک جذبہ لگا سکتا ہے دیکھو آگ پانی میں
مسافر کی طرح آئے ہو تم بھی اس سرائے میں
یہ دنیا ہے نہ رہنا تم کسی بھی خوش گمانی میں
کہ تم بپھری ہوئی موجوں پہ قابو پا نہیں سکتے
رکاوٹ بن نہیں سکتے ہو دریا کی روانی میں
وسائل پر منافع خور ہی قابض ہو گئے آخر
تو مشکل ہو گیا جینا ہمارا اس گرانی میں
وہ تخت و تاج کو رکھتا ہے اپنے پاؤں کے نیچے
مہارت جس کو حاصل ہو دلوں پر حکمرانی میں
زمانے کو کیا حیران ہم نے اس طرح سیمیں
ضعیفی اوڑھ کر پھرتے ہیں ہم اپنی جوانی میں
نسیم شاہانہ سیمیں








