- Advertisement -

نہ جسم تیرا ۔ نہ مرضی تیری

اویس خالد کا ایک اردو کالم

 

نہ جسم تیرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ مرضی تیری

اسلام کے خلاف ہر دور میں بڑی بڑی گھناونی سازشیں ہوتی رہی ہیں اور آخر کار یہ سازشیں کرنے والے خود ہی ذلیل و رسوا ہو کرنیست ونابود ہو گئے ۔ لیکن ان کا انجام دیکھنے کے باوجود بھی ان کے پیروکاروں کو عقل نہیں آتی اور وہ اسلام کے خلاف کوئی نہ کوئی فتنہ اور پیدا کر دیتے ہیں ،شاید ان ظالموں کی قسمت میں اسی طرح راندہ درگاہ ہونا لکھا ہوا ہے ۔ کسی خاتون نے سوال پوچھا کہ مجھے میرے شوہر کے تابع کر دیا گیا ہے اور میرا شوہر آزاد ہے تو کیا اسلام نے عورت پریہ ظلم نہیں کیا؟ اس سے پوچھا گیا اے خاتون تیرے بیٹے کتنے ہیں ؟ اس نے کہا میرے ماشاء اللہ تین بیٹے ہیں ۔ تو کہا گیا کہ تجھے ایک مرد کے تابع کر کے تین مردوں کو اس طرح تیرے تابع کر دیا ہے کہ ان کی جنت ہی تیرے قدموں میں رکھ دی ہے ۔ تجھے اتنی عزت بخشی ہے ۔ اسلام نے تو تجھے اتنی فوقیت بخشی ہے ۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے نے سیکولرزم کی اصلی شکل و صورت واضح کر دی ہے ۔ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان خواتین کو ہی ان کے حقوق کے بارے میں ورغلا کر گمراہ کرتے ہوئے پاکستان میں عریانی اور فحاشی کو فروغ دیں ۔ دوسری طرف چند ضمیر فروش اور ایمان فروش لوگ ان کی تائید کر رہے ہیں اور اس بے ہودگی کے حق میں بے بنیاد دلائل دیتے پھرتے ہیں ۔ ایک بات تو طے ہے کہ وہ صیہونی طاقتیں کبھی بھی اپنے اس ناپاک مشن میں کامیاب نہیں ہو سکتیں کیونکہ الحمد اللہ ہم کم کوش ضرور ہیں لیکن بے ذوق نہیں ہیں ۔ آج ان کی اس غلیظ سازش نے مسلمان خواتین کو گمراہ کرنے کی بجائے مزید بیدار کر دیا ہے ۔ اورجولوگ سوچے سمجھے یا بنا سوچے سمجھے ان کی تائید کر رہے ہیں ان سے میرا بڑا سادہ سا سوال ہے کہ اس نعرے میں عورتوں کے کون سے حقوق ہیں جو مانگے جا رہے ہیں –
اپنے جسم سے کس قسم کی مرضی کا اختیار مانگا جا رہا ہے؟ کیا اس سے ان عورتوں کا یہ کہنا ہے کہ میرا جسم میری مرضی میں جتنی مرضی عبادت کروں جتنی مرضی خیرات کروں ؟ یا یہ کہنا ہے کہ میرا جسم میری مرضی میں جتنا مرضی قرآن پڑھوں ،تعلیم حاصل کروں ؟ تو ایک بچہ بھی آسانی سے سمجھ لے گا کہ ہر گز نہیں ۔ اس جسمانی مادر پدر مرضی کا مطلب صرف اور صرف بے حیائی ہے اور کچھ نہیں ۔ ہ میں اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ عورتوں کے حقوق کی جنگ ہر گز نہیں ہے بلکہ ان کو چادر اور چار دیواری سے نکال کر سرِ بازار رسوا کرنے کی اورمعاشرے کے ہاتھوں میں کھلونا بنانے کی سازش ہے ۔ اس سے بڑھ کے ایک عورت کی عزت و تکریم اور کیا ہو گی کہ عورت ہی سر سے دوپٹہ اتارنا چاہ رہی ہے اور مرد جن کو ظالم،بد چلن اور بد کردار کہا جاتا ہے وہ دھکے سے دوپٹہ واپس اس کے سر پہ دے رہا ہے ۔ یہ بھی اسلام کو سلام ہے ۔ شازیہ انوار المعروف ماروی سرمد اور اس طبقے کے دوسرے لوگ اور ان کی حمایت کرنے والے نام نہاد مسلمان ذرا ہمت کریں اور کھُل کے اپنے مقاصد بیان کریں ناں ۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ لے کر یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔ حقوق کی بات ہوتی تو یہ نعرے ہوتے کہ ہ میں ہمارے حقوق دو ۔ ہم پر ظلم بند کرو بند کرو ۔ یا یہ نعرہ لگاتے عورت کو عزت دو وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ چیلنج ہے کہ اسلام کے علاوہ کسی مذہب یا کسی معاشرے سے عورتوں کے اتنے حقوق نکال کر دکھا دیں جتنے اسلام نے ودیعت کیے ہیں ۔
ایسے نعرے لگانے والے ذرا اسلام سے پہلے کی تاریخ میں عورت کا حال تو پڑھیں انھیں اندازہ ہو کہ وہ ظلم کی کس چکی میں پسا کرتی تھیں اور اب اسلام کی وجہ سے کس جنت میں رہ رہی ہیں ۔ وہ مرادانہ طبقہ جوعورتوں کو جائیدادوں میں حصہ تک نہیں دیتے اور عورت کی آزادی کی بات کرتے ہیں ۔ خلیل الرحمن قمر کی گالیوں کو ضرور غلط کہیں لیکن غلط کہنے سے پہلے ذرا یہ بھی سوچیں کہ اس نے کس کو کس بات کے جواب میں گالی دی ہے ۔ عورتوں کے روپ میں عورتوں کا استحصال کرنے والی،لاکھوں کروڑوں مسلم خواتین کی دل آزاری کرنے والی،اسلام کے تشخص کو داغ دار کرنے والی،عورت کی حرمت و تقدیس کو پامال کرنے والی،عورت کو چادر اور چار دیواری سے نکال کرتمام حقوق سے دستبردار کرنے والی، کیا عورت کہلانے کی حق دار بھی ہے یا نہیں ؟ عورت کہ جس لفظ کا مطلب ہی پردہ ہے،اس کی عز ت بھی پردے میں ہی ہے ۔ جسم پروردگار کی امانت ہے ۔ تیرا ہوتا تو تُو اپنی مرضی بھی کرتی کوئی تجھے نہ روکتا ۔ لیکن نہ یہ جسم تیرا ہے نہ یہ روح تیری ہے ،نہ زمین تیری ہے نہ آسمان تیرا ہے ۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے کہ زبانیں بند ہوں گی اور ہاتھ کلام کریں گے اور پاءوں گواہی دیں گے جو کام تم کرتے رہے ہو ۔ (سورۃ یٰسین: آیت65) ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے زندگی اور موت کو تخلیق کیا کہ دیکھیں تم میں سے اچھے اعمال کون کرتا ہے ۔ (سورۃ الملک: آیت02) ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا تا کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات:56) ۔ غور کریں انسان کی مرضی ہے کہاں ؟ نہ مرضی سے آیا نہ مرضی سے جائے گا ۔ جو عمر گذارنی ہے اس میں بھی واضح احکامات موجود ہیں ۔ کوئی بتائے کہ مرضی ہے کہاں ؟

اویس خالد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
غزل از اکبر الہ آبادی