میں نے برسوں تک
اُس بوڑھے درخت کو دیکھا ہے
جو زمین پر نہیں
وقت کے کندھوں پر کھڑا تھا
اُس کی شاخیں
صرف پتوں کا بوجھ نہیں اُٹھاتیں تھیں
وہ کئی موسموں کی تھکن
اور کئی نسلوں کی خاموشی
اپنے تن پر سہارے ہوئے تھا
کتنی آندھیاں
اُس کے بدن سے ٹکرائیں
کتنے طوفان
اُس کے گِرد چیختے رہے
مگر وہ
اپنی جڑوں میں
کسی قدیم دُعا کی طرح قائم رہا
وہ جُھکا نہیں
حالانکہ ہوا
ہر بار
اُسے شکست دینا چاہتی تھی
وہ گِرا نہیں
حالانکہ بارشیں
اُس کی مٹی بہا لے گئی تھیں
وہ تھکا بھی نہیں
شاید اِس لیے
کہ اُسے معلوم تھا
سایہ دینے والے درخت
اپنی تھکن
کبھی ظاہر نہیں کرتے
محسن خالد محسنؔ








