آنکھوں میں جتنے چاہے سمندر بَلا کے رکھ
خاکِ زمیں سے اشک تو اپنے بچا کے رکھ
دے شکل کوئی مٹی کو دستِ ہُنرشناس
کوشش کے چاک پر ابھی خواہش چڑھا کے رکھ
نایاب چاہتوں کا خزانہ ہے خود وہ ذات
ماں کی ہتھیلی چوم کے اُس پر کما کے رکھ
محنت سے سب سمیٹ تو دنیا کا سیم و زر
اور سِن رسیدہ باپ کے قدموں میں لا کے رکھ
سب کور چشم لوگ ہیں حالت پہ اپنی خوش
یہ عقل کا چراغ یہاں پر بُجھا کے رکھ
احساس و فکر کی نہ ہو دھڑکن عذابِ جاں
بے جان دل کو ایسا کھلونا بنا کے رکھ
آ دیکھ ہیں قتیلِ ستم ہائے دوستاں
ترکش میں تیر سارے تو اپنی ادا کے رکھ
معلوم تھا تجھے کہ چراغوں میں دم نہیں
کس نے کہا تھا سامنے اِن کو ہوا کے رکھ
اکرم کنجاہی








