سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے روشن راستہ
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
دنیا کی تاریخ میں بہت سے عظیم لوگ آئے، لیکن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ آپ ﷺ نہ صرف ایک عظیم رہنما، پیغمبر اور قانون ساز تھے بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رحمت، ہمدردی اور اخلاق کا مظہر بھی تھے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا:
"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ”
(سورہ الانبیاء: 107)
یعنی آپ ﷺ کو دنیا کے تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ یہ آیت ہمارے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر عمل اور ہر تعلیم انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا سب سے بڑا پہلو ان کی اخلاقی عظمت اور انسانی ہمدردی ہے۔ آپ ﷺ نہ صرف اپنے قریبی لوگوں کے لیے رحمت تھے بلکہ دشمنوں، فقیر اور حتیٰ کہ جانوروں تک کے لیے آپ کی ہمدردی اور شفقت بے مثال تھی۔ ایک مشہور واقعہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسانیت کے لیے سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے نفع مند ہو۔ یہ سچائی آج بھی ہمارے سماجی اور اخلاقی معیاروں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔
آپ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اخلاق اور عدل کے بغیر دین ادھورا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عبادات کا عملی نمونہ پیش کیا بلکہ معاشرتی انصاف، بھائی چارہ، اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مکمل رہنمائی دی۔ مکہ اور مدینہ کی زندگی میں آپ ﷺ نے کمزور، یتیم اور محتاج افراد کے لیے ایسے قوانین اور اصول متعین کیے جو آج بھی کسی بھی معاشرے کے لیے قابل تقلید ہیں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں ظلم، خود غرضی اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
حضرت محمد ﷺ کی رحمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں تعلیم اور علم کی اہمیت کو نمایاں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اس بیان کے ذریعے آپ ﷺ نے نہ صرف دنیاوی علم بلکہ دینی اور اخلاقی علم کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ آپ ﷺ کی یہ تعلیم آج بھی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم اور تربیت کے بغیر انسانیت کا حقیقی فائدہ ممکن نہیں۔
آپ ﷺ کی زندگی میں صبر اور برداشت بھی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔ دشمنوں کی زیادتیوں، مظالم اور سخت حالات کے باوجود آپ ﷺ نے کبھی انتقام، سختی یا تشدد کا سہارا نہیں لیا۔ بلکہ آپ ﷺ نے معافی، محبت اور رحم دلی کے ذریعے انسانوں کے دلوں کو بدلنے کی کوشش کی۔ یہ صبر اور بردباری نہ صرف آپ ﷺ کی عظمت کا مظہر ہے بلکہ ہر انسان کے لیے ایک عملی سبق بھی ہے کہ مشکلات میں اخلاق اور رحم دلی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
آپ ﷺ کی سیرت میں سب سے اہم پہلو انسانیت کی خدمت اور مساوات ہے۔ آپ ﷺ نے معاشرتی فرق، نسلی تعصب اور معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب انسان برابر ہیں اور سب کو عزت و وقار حاصل ہے، چاہے ان کا مقام یا معاشرتی حیثیت کچھ بھی ہو۔ یہ تعلیم آج کے دور میں بھی ہم سب کے لیے مشعل راہ ہے کہ ہمیں ہر انسان کے ساتھ عدل اور محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
حضرت محمد ﷺ کی شخصیت صرف انسانی زندگی کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی فطرت، جانوروں، ماحول اور ہر مخلوق کے لیے رحمت تھی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ایسا نہیں جو تمہیں دکھ پہنچائے اور تم اس کے ساتھ نرمی اور شفقت نہ دکھاؤ، مگر یہ کہ وہ سزا کے مستحق ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت انسانیت تک محدود نہیں بلکہ تمام مخلوقات تک پھیلی ہوئی تھی۔
آپ ﷺ کی تعلیمات میں محبت اور اخلاق کا ایک لازمی ستون موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین مسلمان وہ ہے جو دوسروں کے لیے مفید ہو۔ آپ ﷺ کی زندگی میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر انسان کو دوسروں کے فائدے کے لیے کام کرنا چاہیے، نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے۔ محبت، انصاف اور ہمدردی ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط اور خوشحال بناتے ہیں۔
حضرت محمد ﷺ کی عظمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اخلاق اور قانون کے درمیان توازن قائم رکھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عبادات کی تعلیم دی بلکہ اخلاقی اور معاشرتی اصولوں کو بھی عملی شکل دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص کامل ایمان والا نہیں جو اپنے پڑوسی، دوست یا کمزور کے حقوق کا خیال نہ رکھے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایمان اور اخلاق دو اجزاء ہیں جو انسان کی زندگی کو مکمل کرتے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ذات انسانی تاریخ کی سب سے روشن اور مکمل شخصیت ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات اور سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ انسانیت کی خدمت، عدل، محبت اور رحم دلی ہر دور کے لیے لازمی ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی ایک مکمل نمونہ ہے کہ کس طرح ایک انسان دنیا میں امن، محبت اور رحمت کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔
آج اگر ہم حضرت محمد ﷺ کی سیرت پر عمل کریں، تو نہ صرف ہمارے معاشرے میں امن اور بھائی چارہ بڑھے گا بلکہ دنیا کی ہر مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور محبت بھی فروغ پائے گی۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اصل عظمت طاقت، دولت یا مقام میں نہیں بلکہ اخلاق، محبت اور خدمت خلق میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور آپ ﷺ کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم بھی اپنی زندگیوں میں ان کی رحمت، شفقت اور انسانیت کی خدمت کا مظاہرہ کر سکیں۔
اللہم صلِّ على سیدنا محمد ﷺ و علیہ و آلہ وصحبہ أجمعین۔
یوسف صدیقی








