آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

سفر نے تو مُجھے شل کر دیا ہے

ایک اردو غزل از رشید حسرت

سفر نے تو مُجھے شل کر دیا ہے
مُعمّا تھا مگر حل کر دیا ہے

وہ آیا نکہتوں کے جُھرمُٹوں میں
بہاروں کو مکمل کر دیا ہے

مُجھے محفوظ کرنا ذات کو تھا
تِری آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے

عِنایت کی ہے اُس نے، حال پوچھا
بیاں میں نے بھی اجمل کر دیا ہے

ہُؤا کُچھ بھی نہِیں اُس سے بِچھڑ کر
مگر آنکھوں کو جل تھل کر دیا ہے

گیا اِس کا مکِیں گھر چھوڑ کر جب
سو دِل کا در مقفّل کر دیا ہے

غمِ جاناں سے کھینچا ہاتھ کب کا
غمِ دوراں نے پاگل کر دیا ہے

رویّے نے تمہارے کھال کھینچی
مِری چمڑی کو چھاگل کر دیا ہے

رِیاست نے مُعاشی مسئلے کو
کوئی دردِ مُسلسل کر دیا ہے

کڑکتی دُھوپ میں جلتے بدن پر
تِری زُلفوں نے بادل کر دیا ہے

عِنایت ہے کِسی کی مُجھ پہ حسرت
نِرا تھا ٹاٹ، مخمل کر دیا ہے

رشِید حسرتؔ

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button