آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرپیر انتظار حسین مصور

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

​معاشرتی ناہمواری اور بے حسی پر ایک دلدوز افسانہ

​شہرِ لاہور کی چمکتی ہوئی سڑکوں اور بلند و بالا عمارتوں کی دلفریبی کے بالکل پیچھے، ایک بدبو دار گندے نالے کے کنارے پیوند لگے پرانے کپڑوں اور بوسیدہ ترپالوں کا بنا ہوا ایک خستہ حال خیمہ تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں نالے کے زہریلے پانی کا تعفن ہوا میں گھلا رہتا تھا، اور جہاں سے گزرتے ہوئے چمکتی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ اپنے شیشے چڑھا لیا کرتے تھے۔

​اسی خستہ حال خیمے کی چھاؤں میں دو شادی شدہ بہنیں اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔ گھر میں نہ راشن کا ایک دانہ تھا اور نہ چولہا جلانے کی توفیق۔ نالے کے پاس اس کپڑے کے سائے تلے جب چھوٹے بچوں کا بھوک سے بلبلانا برداشت نہ ہوا، تو ان دونوں بہنوں نے غیرت کا دامن نہیں چھوڑا؛ وہ شہر کی بڑی سڑک کے کنارے بیٹھ کر چند روپے کی پینسلیں اور چھوٹی موٹی اشیاء بیچنے لگیں تاکہ شام کو بچوں کے لیے سوکھی روٹی کا انتظام ہو سکے۔

​ایک سرد شام، دونوں معمول کے مطابق فٹ پاتھ پر بیٹھی ہاتھ میں سرخ اور نیلی پینسلیں لہراتی جا رہی تھیں۔ اچانک سڑک کے کنارے ایک چمکتی ہوئی قیمتی گاڑی آ کر رکی۔ شیشہ نیچے ہوا اور ایک صاحبِ حیثیت شخص نے غصے اور نفرت سے بھری نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا۔ یہ وہی شخص تھا جس کی کوٹھی میں گزشتہ رات چوری کی ایک بڑی واردات ہوئی تھی۔ اس نے ان عورتوں کا غربت زدہ حلیہ، پھٹے پرانے کپڑے اور بے بسی دیکھی اور ایک پل ضائع کیے بغیر موبائل نکال کر پولیس کو فون گھما دیا۔

​”انسپکٹر صاحب! میری کوٹھی میں چوری کرنے والی چور مل گئی ہیں۔ یہ سڑک پر پینسلیں بیچنے کا ڈھونگ رچا رہی ہیں۔ فوراً آ کر اٹھائیں انہیں!”

​چند ہی منٹوں میں سائرن بجاتی پولیس کی گاڑی آئی۔ بغیر کسی ثبوت، بغیر کسی قانونی تفتیش کے، محض ایک صاحبِ ثروت شخص کے ایک اشارے پر، پینسلیں بیچتی ہوئی ان دو ماؤں کو سڑک کے بیچوں بیچ سے زبردستی گاڑی میں پھینک دیا گیا۔

​بڑی بہن نے تڑپ کر التجا کی، "صاحب! خدا کا خوف کریں۔ ہم تو سڑک پر پینسلیں بیچ کر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ نالے کے پاس ہمارا خستہ حال خیمہ ہے جہاں چھوٹے بچے بھوکے بیٹھے ہیں، ہم چور نہیں ہیں!”

​مگر قانون کا ڈنڈا امیر کے اشارے کا پابند تھا۔ تھانے کے لوہے کے بھاری دروازے بند ہو گئے اور قانون نے غریب کی صفائی سننے سے صاف انکار کر دیا۔

​گندے نالے کے پاس پرانے کپڑوں کے اس خیمے میں بچے رات بھر بھوک اور ماں کی ممتا کو پکارتے رہے۔ ان کے شوہر اور بوڑھا باپ تھانے کے چکر کاٹتے رہے، اپنے برتن اور کپڑے بیچ کر وکیل اور پولیس کی منتیں کرتے رہے، مگر غریب کی بات سننے والا کوئی نہ تھا۔

​صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی، اینٹوں کی اس بے حس عمارت سے ایک سرد اور بے رحم پیغام آیا:

"تمہاری عورتوں کی حالت بگڑ گئی تھی… وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔”

​خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن مظلومیت کی داستانیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔ ہسپتال ہی سے ان کی میتوں کو غسل دیا گیا اور پھر پولیس کی بھاری نفری اپنی نگرانی میں ان کی لاشوں کو ان کے دور دراز آبائی گاؤں لے گئی۔

​گاؤں پہنچ کر نہ رشتہ داروں کو بین کرنے کا موقع دیا گیا، نہ کوئی صف بچھی۔ پولیس کے سخت پہرے میں صرف چند لمحوں کے لیے لرزتے ہوئے باپ اور بچوں کو زبردستی صرف چہرہ دکھایا گیا، اور پھر قانون کے پہرے داروں نے زبردستی اپنی ہی نگرانی میں دونوں کو مٹی تلے دفن کروا دیا۔ جیسے لاشیں نہیں، بلکہ اپنے ہی کیے گئے ظلم کے ثبوت دفنائے جا رہے ہوں۔

​کچھ دن بعد، جب پولیس کی ٹیم اس بدبو دار نالے کے پاس سے پرانے کپڑوں سے بنا وہ خستہ حال خیمہ اکھاڑنے آئی، تو نیچے مٹی میں ایک ٹوٹا ہوا ڈبہ اور دو سرخ پینسلیں پڑی ملیں۔

​اس غریب شوہر نے وہ پینسلیں اٹھائیں، اپنے روتے ہوئے بچے کے لرزتے ہاتھوں میں دیں اور بوجھل، ویران لہجے میں کہا:

​”بیٹا! اس شہر میں غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم اور چوری ہے۔ تمہاری ماؤں کا قصور یہ تھا کہ وہ چور نہیں تھیں… کاش وہ اس ظالم نظام کی آنکھوں میں لگی قانون کی پٹی کو پڑھ سکتیں!”

​شہر کی بڑی سڑکوں پر چمکتی گاڑیاں ویسے ہی دوڑ رہی تھیں، اور گندے نالے کا بدبو دار پانی خاموشی سے بہتا رہا—جیسے اس نے غریب کی آبرو، اس کے خواب اور خون سب کچھ اپنے اندر نگل لیا ہو۔

​نوٹ: یہ ایک اصلاحی اور فرضی افسانوی تحریر ہے جس کا مقصد معاشرتی ناہمواری، بے حسی اور غریب کے ساتھ ہونے والے رویوں کی عکاسی کرنا ہے۔ اس کا کسی حقیقی فرد یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

پیر انتظار حسین مصور

post bar salamurdu

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button