اردو غزلیاتڈاکٹر کبیر اطہرشعر و شاعری

روز و شب یوں نہ اذیّت میں گزارے ہوتے

ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل

روز و شب یوں نہ اذیّت میں گزارے ہوتے
چین آ جاتا اگر کھیل کے ہارے ہوتے

خود سے فُرصت ہی میسّر نہیں آئ ورنہ
ہم کسی اور کے ہوتے تو تمہارے ہوتے

تجھ کو بھی غم نے اگر ٹھیک سے برتا ہوتا
تیرے چہرے پہ خد و خال ہمارے ہوتے

کُھل گئ ہم پہ محبت کی حقیقت ورنہ
یہ جو اب فائدے لگتے ہیں خسارے ہوتے

ایک بھی موج اگر میری حمایت کرتی
میں نے اُس پار کئ لوگ اُتارے ہوتے

لگ گئ اور کہیں عمر کی پُونجی ورنہ
زندگی ہم تری دہلیز پہ ہارے ہوتے

خرچ ہو جاتے اسی ایک محبت میں کبیر
دل اگر اور بھی سینے میں ہمارے ہوتے

ڈاکٹر کبیر اطہر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button